پی ٹی آئی کا عمران خان کے سرکاری علاج پر عدم اعتماد برقرار

ہمارا مطالبہ ہے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ہسپتال منتقل کیا جائے جہاں وہ اپنے ذاتی معالجین کی زیرِ نگرانی ہوں اور ان کے اہلخانہ بھی ساتھ موجود ہوں؛ چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا بیان


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کا پارٹی کے بانی چیئر مین عمران خان کے سرکاری علاج پر عدم اعتماد برقرار ہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ مجھے ابھی تصدیق ہوئی ہے کہ عمران خان کو کل رات آنکھ کے انجیکشن اور میڈیکل چیک اپ کے لیے پمز لے جایا گیا تھا، میں مزید کہوں گا کہ علاج خواہ کچھ بھی ہو ہماری تشویش اپنی جگہ برقرار ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو خاندان کے افراد کے ساتھ ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے کیوں کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے اور ہم عرصہ دراز سے انہیں یہ بنیادی حق فراہم کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


بتایا جارہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی آنکھ کے علاج کیلئے انجیکشن کی چوتھی ڈوز لگادی گئی اور طبی معائنہ کے بعد انہیں دوباہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری پریس بریف سے معلوم ہوا کہ عمران خان کو 28 اپریل 2026ء کو آنکھوں کے علاج کے لیے پمز لایا گیا جہاں انہیں انٹرا وٹریل انجکشن کی چوتھی ڈوز لگائی گئی، طریقہ کار سے پہلے ماہرین امراض چشم نے ان کا معائنہ کیا، عمران خان طبی لحاظ سے مستحکم پائے گئے، ان کی آپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی کی گئی جس میں طبی بہتری دکھائی گئی۔


پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد اور معیاری نگرانی کے تحت آپریشن تھیٹر میں تمام معیاری احتیاطی تدابیر اور پروٹوکول کو اپناتے ہوئے انہیں سرجنز کی مائیکروسکوپی کی رہنمائی میں انٹرا وٹریل انجیکشن کی چوتھی ڈوز لگائی گئی، یہ طریقہ کار ڈے کیئر سرجری کے طور پر انجام دیا گیا، پمز میں اپنے قیام کے دوران عمران خان طریقہ کار سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں کافی حد تک مستحکم رہے، مزید دیکھ بھال، مشورے اور دستاویزات کی پیروی کے لیے ہدایات کے ساتھ انہیں ڈسچارج کردیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert