مدارسِ دینیہ کے خلاف کسی بھی قسم کی مداخلت، قانون سازی یا انتظامی دباؤ ہرگز قبول نہیں کریں گے، مولانا عبدالواسع
جے یو آئی کا مؤقف سیاسی مصلحت کے تابع نہیں، مدارس کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور سیاسی مزاحمت اور عوامی موبلائزیشن سے ایوانِ اقتدار ہلا دیں گے، سینیٹر جے یو آئی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے جے یو آئی چمن کے زیرِ اہتمام منعقدہ تحفظِ مدارس کانفرنس سے اپنے خطاب میں حکومتی حلقوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مدارسِ دینیہ کے خلاف کسی بھی قسم کی مداخلت، قانون سازی یا انتظامی دباؤ کو جمعیت علمائ اسلام ہرگز قبول نہیں کرے گی، مدارس کے معاملے میں جے یو آئی کا مؤقف کسی وقتی سیاسی مصلحت، مفاہمتی فارمولے یا پاور شیئرنگ کے تقاضوں کے تابع نہیں بلکہ ایک غیر متزلزل نظریاتی و آئینی مؤقف ہے، انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر اقتدار کی بندربانٹ، سیاسی مفادات اور اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کے لیے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں مگر جمعیت علماء اسلام ایسی ہر کمزوری سے بالاتر ایک عوامی و نظریاتی قوت ہے جو مدارس کے تحفظ کو اپنی سرخ لکیر تصور کرتی ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مدارس کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو جے یو آئی سڑکوں سے پارلیمنٹ تک بھرپور سیاسی مزاحمت، عوامی موبلائزیشن اور آئینی جدوجہد کے ذریعے ایوانِ اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے گی، انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ایک منظم سازش کے تحت مدارس اور انتظامیہ کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کی جا رہی ہے تاکہ دینی قوتوں کو ڈی لیجیٹمائز کر کے انہیں قومی دھارے سے باہر کیا جا سکے، مگر یہ سیاسی و فکری سازش بری طرح ناکام ہوگی کیونکہ مدارس محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ اسلامی تہذیب کے نظریاتی قلعے، فکری خودمختاری کے ضامن اور قومی بیانیے کے محافظ ہیں، انہوں نے کہا کہ جب ریاستی تعلیمی پالیسیوں کی ناکامی نے قوم کو فکری بحران سے دوچار کیا تو انہی مدارس نے متبادل علمی و فکری قیادت فراہم کی، جبکہ لارڈ میکالے کا استعماری نظامِ تعلیم دراصل فکری غلامی، تہذیبی بیگانگی اور نظریاتی انہدام کا آلہ کار ہے جو قوموں کی شناخت کو مسخ کرنے کے لیے وضع کیا گیا، انہوں نے تاریخی تناظر میں کہا کہ مسلمانوں کو اسلام کی صورت میں ایک مکمل، جامع اور آفاقی نظامِ حیات عطا ہوا جس نے دنیا کو عدل، مساوات اور انسانی حقوق کا حقیقی تصور دیا مگر استعماری قوتوں نے ہمیشہ فکری یلغار، تہذیبی تسلط اور سیاسی مداخلت کے ذریعے اس نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی، اندلس، برصغیر اور دیگر خطوں میں مسلمانوں کا زوال اسی استعماری پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی استعمار نے استشراقی بیانیے کے ذریعے اسلام کی تعلیمات کو متنازع بنانے اور مسلمانوں کو اپنی نظریاتی اساس سے کاٹنے کی منظم کوشش کی، تاہم جمعیت علمائ اسلام ہر محاذ پر اس فکری و سیاسی یلغار کا مقابلہ کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنی گورننس پر توجہ دینے کے بجائے بیرونی آقاؤں کے احکامات کی تکمیل میں مصروف ہے اور اسی پالیسی کے تحت مدارسِ دینیہ کو سیل کرکے اہلِ مدارس اور ریاستی انتظامیہ کو دست و گریبان کرنے کی خطرناک سازش رچائی جا رہی ہے، مگر جے یو آئی اس کھیل کو پوری طرح سمجھتی ہے اور اسے ہر سطح پر ناکام بنائے گی، انہوں نے اعلان کیا کہ جے یو آئی اب اپنی کشتیاں جلا چکی ہے اور میدان میں ایک فیصلہ کن معرکہ برپا ہوگا، جہاں دمادم مست قلندر ہوگی جہاں عوامی طاقت ہر جبر اور ہر سازش کا راستہ روکے گی، انہوں نے اعلان کیا کہ مدارس کے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب صرف بیانات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک بھرپور عوامی تحریک، سیاسی مزاحمت اور آئینی جدوجہد کی صورت میں سامنے آئے گا، کیونکہ مدارس ہماری دینی شناخت، فکری آزادی اور قومی خودمختاری کی علامت ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
