بلوچستان حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار، مدارس کی رجسٹریشن پر مذاکرات ‘ وزیر اعلیٰ کے آنے تک احتجاج نہ کریں ‘ حکومتی وفد کی جمعیت سے درخواست
جے یو آئی کا 5 مئی کے اسمبلی اجلاس میں مدارس کا بل شامل کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں تاہم دونوں فریقین کے درمیان تاحال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو کی قیادت میں حکومتی وفد نے اپوزیشن رہنماؤں سے مذاکرات کیے، جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ حکومتی وفد میں صوبائی وزراء میر علی مدد جتک اور میر برکت رند شامل تھے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، چیئرمین پی اے سی اصغر ترین، اپوزیشن رکن اسمبلی سید ظفر آغا اور رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے اپوزیشن کو منگل تک وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی آمد تک احتجاج موخر کرنے کی تجویز دی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ صوبے سے باہر ہیں تاہم اپوزیشن کا پیغام ان تک پہنچا دیا گیا ہے، اور وہ واپسی پر جے یو آئی کے اراکین اسمبلی اور قائدین سے ملاقات کریں گے۔ دوسری جانب جے یو آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سے مدارس سے متعلق بل منظور ہو چکا ہے، تاہم وزیراعظم نے اس پر غور کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ دیگر تمام صوبوں نے اس بل پر خاموشی اختیار کی لیکن سب سے پہلے بلوچستان حکومت نے اس پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ جے یو آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت 5 مئی کو ہونے والے اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں مدارس کا بل شامل کرے۔

ملاقات کے دوران مدارس کی رجسٹریشن سمیت سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں، جہاں سے علماء اور حفاظ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو دینی مدارس نے ہمیشہ مسلم امہ کو جوڑے رکھا ہے۔ انہوں نے مولانا عبدالواسع کو ایک زیرک اور قابل احترام سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان تمام قوموں اور مختلف مذاہب کا گلدستہ ہے۔ صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے کہا کہ مدارس کے حوالے سے حکومتی موقف سمجھنے کی ضرورت ہے، حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کو ترجیح دی ہے اور اپوزیشن کے پاس حکومتی نمائندوں کا چل کر آنا حکومت کی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
