بھارت میں کشتی الٹنے سے متعدد ہلاکتیں، درجنوں مسافر لاپتا، ویڈیو نے حفاظتی غفلت بے نقاب کر دی


جبلپور(قدرت روزنامہ)بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے جابل پور میں برگھی ڈیم کے قریب سیاحتی کشتی الٹنے کے المناک حادثے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ حادثے کی ایک نئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ کشتی میں بنیادی حفاظتی اقدامات شدید طور پر نظر انداز کیے گئے، جس کے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب 40 سے زائد سیاحوں کو لے جانے والی ایک کروز کشتی اچانک پانی میں ڈوبنے لگی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے جبکہ موسم کی خرابی کے باوجود اسے سفر کی اجازت دی گئی تھی۔


نئی سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کشتی کے اندر بیٹھے مسافر پہلے معمول کی حالت میں موجود تھے، لیکن اچانک پانی تیزی سے اندر آنا شروع ہوا تو صورتحال افراتفری میں بدل گئی۔ چند لمحوں میں قہقہے چیخوں میں تبدیل ہو گئے اور کشتی بری طرح جھکنے لگی۔


مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ لائف جیکٹس پہلے سے بند اور محفوظ طریقے سے رکھی ہوئی تھیں، جنہیں عملہ صرف اس وقت نکالنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے جب کشتی ڈوبنے کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اس دوران کئی مسافر بغیر لائف جیکٹس کے پانی میں اترنے پر مجبور ہو گئے۔
عینی شاہدین اور زندہ بچ جانے والے افراد کے مطابق کشتی عملہ بار بار صرف بیٹھے رہنے کی ہدایت دیتا رہا جبکہ کسی قسم کی فوری مدد یا حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔
حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن میں بھی تاخیر سامنے آئی۔ اطلاع ملنے کے باوجود ابتدائی امدادی ٹیم بروقت روانہ نہ ہو سکی اور انتظامی تاخیر نے صورتحال مزید سنگین بنا دی۔ مقامی افراد اور ماہی گیر سب سے پہلے امدادی کارروائیوں میں شریک ہوئے اور 15 سے زائد افراد کو بچایا۔


حکام کے مطابق اب تک 9 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ چار افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، لاپتا ہیں۔ خراب موسم کے باعث رات گئے سرچ آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا تھا جو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد ریاستی حکومت نے کشتی رانی اور واٹر اسپورٹس کی تمام سرگرمیاں معطل کر دی ہیں جبکہ پورے نظام کا حفاظتی آڈٹ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ متعدد افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کچھ عملے کو برطرف اور بعض کو معطل کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جو اس بات کا تعین کرے گی کہ حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کیسے ہوئی اور اس سانحے کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert