لوڈشیڈنگ، ناقص ترقیاتی کام اور بند موبائل سگنلز؛ پشتونخواہ میپ کا حکومتی ادارے مفلوج ہونے کا الزام‘ احتجاج کا انتباہ

زیارت+سنجاوی(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ضلع زیارت کی ضلعی کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان کے زیرِ صدارت سنجاوی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کی تنظیمی و سیاسی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی اور آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے تنظیمی فعالیت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سردار حبیب الرحمن دومڑ، صوبائی لیبر سیکرٹری حبیب الرحمن بازئی، نظام عسکر اور دیگر ضلعی رہنما شریک تھے ۔اجلاس میں زیارت شہر سمیت ضلع کی مختلف یونین کونسلوں میں بجلی کی ناروا اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ واپڈا حکام عوام دشمنی پر اتر آئے ہیں۔ عوام جب اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے جمہوری اور پُرامن احتجاج کرتے ہیں تو ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے الٹا ان کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔اجلاس سے رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے دورِ حکومت میں تمام سرکاری ادارے مفلوج ہو چکے ہیں۔ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت صرف نام کے ادارے بن کر رہ گئے ہیں، جبکہ ضلعی افسران کوئٹہ میں بیٹھ کر امور چلا رہے ہیں اور عوام اپنے جائز کاموں کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ۔زیارت مین شاہراہ پر تعمیراتی کام متعلقہ محکمے اور ٹھیکیداروں کے گٹھ جوڑ کے باعث انتہائی ناقص معیار اور سست روی کا شکار ہے، جس سے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ دور دراز سے آنے والے سیاح بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اسی طرح ماسٹر پلان کے نام پر زیارت شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا اور کام میں ناقص ترین میٹریل استعمال کر کے انتہائی سست روی سے کام چلارہے ہیں، جس سے نہ صرف کام کے معیار پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ مقامی آبادی شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہے۔اجلاس میں بغائو، تاندوانی اور خراوری بابا میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سگنلز کی مسلسل بندش پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ دورِ جدید میں عوام کو مواصلاتی سہولیات سے محروم رکھنا انہیں پسماندگی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ عوامی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے، بے بنیاد ایف آئی آرز واپس لی جائیں، ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے بصورت دیگر پارٹی اپنے عوام کی تائید اور حمایت سے احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔
