پاکستان نے آئی ایم ایف کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے لیے 5 سال کا پلان فراہم کردیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان نے آئی ایم ایف کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے لیے 5 سال کا پلان فراہم کردیا، جس کا مقصد آیندہ بجٹ سے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ بجٹ میں پاکستان کے لیے الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے متعلق اہم اہداف مقرر کر دیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے لیے 5 سالہ پلان بھی فراہم کیا ہے، یہ اقدامات آئی ایم ایف کے تحت طے شدہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلیٹی پروگرام کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کے تحت پاکستان کو 28 ماہ میں تقریباً 1.4 ارب ڈالر قرض ملنے کی توقع ہے۔

پالیسی کے تحت آئندہ بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا، اور اضافی بجلی کے مؤثر استعمال کو بڑھانا ہوگا، اس کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں کمی بھی اہم ہدف قرار دیا گیا ہے۔

نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کے تحت پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال پہلے مرحلے میں 9 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جس کے تحت الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز پر سبسڈی دی جا رہی ہے۔ یہ سبسڈی نیو انرجی وہیکلز ایڈاپشن لیوی ایکٹ 2025 کے تحت روایتی گاڑیوں پر عائد لیوی سے حاصل کی جا رہی ہے۔

حکومتی منصوبے کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر 119,170 الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جن میں 116,000 الیکٹرک بائیکس اور 3,170 رکشے و لوڈرز شامل ہیں۔

پہلے مرحلے میں 41,000 گاڑیوں کے ہدف کے مقابلے میں 269,149 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق بینکوں کو بھیجی گئی ہزاروں درخواستوں میں سے اب تک صرف چند ہزار پر کارروائی مکمل ہوئی ہے، جبکہ سیلف فنانس اسکیم کے تحت زیادہ تر درخواست گزاروں کو بائیکس فراہم کی جا چکی ہیں۔

دوسرے مرحلے میں 76,000 الیکٹرک بائیکس اور 2,170 رکشے و لوڈرز فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت آسان اقساط پر الیکٹرک گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔

WhatsApp
Get Alert