آلو کی ضرورت سے زائد پیداوار، کسان پریشان، ادھار مانگ مانگ کر گزارہ کرنے لگے

لاہور(قدرت روزنامہ)آلو کی ضرورت سے زائد پیداوار کے نتیجے میں کسان پریشان ہیں جو ادھار مانگ مانگ کر گزارہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث کسانوں کے خواب چکنا چور ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق آلو کو خالص سونا سمجھنے والے کسان رل گئے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ کسی نے مکان کی چھت کی تعمیر روک دی تو کسی کو اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کیلئے ادھارلینا پڑ رہا ہے۔
آج سامنے آنے والی بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آلوؤ ں کے کچھ ڈھیر کھلے میدانوں میں ہیں، کچھ دکانوں کے باہر دھوپ سینک رہے ہیں جن سے بو پھیل رہی ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ایک کسان نے کہا کہ کولڈ اسٹوریج میں جگہ نہیں اور بازار میں آلو کی قیمت 3 سے 500روپے فی کوئنٹل یعنی 3 سے 5روپے فی کلو جبکہ اس کی کاشت پر اخراجات زیادہ آتے ہیں۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ کولڈ اسٹوریج بھرا ہوا ہے۔ باقی آلو کھیتوں میں ہیں جنہیں روزانہ ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے منڈی بھیج کر اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں جس میں لیبر اور ڈیزل کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ بچوں کی پڑھائی کی فیس ادا کرنے کیلئے بھی قرض لینا پڑ رہا ہے۔ بعض کسان آلو ان دنوں میں فروخت کرتے ہیں جب ان کی قیمت اچھی مل جائے، جس کی وجہ سے آلو کے معیار پر بھی برا اثر پڑر ہاہے۔
