دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی نوکریوں کا کیس، عدالت نے بڑا فیصلہ سنادیا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وفاقی آئینی عدالت نے دورانِ ملازمت وفات پانے والے سرکاری ملازمین کے بچوں کو کوٹہ پر ملازمت دینے سے متعلق اہم کیس میں کلرک سمعیہ نذیر کی اپیل خارج کر دی، تاہم عدالت نے حکومت کو دورانِ ملازمت ملنے والی تنخواہوں اور مراعات کی ریکوری سے روک دیا۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ فیصلے سے قبل ہونے والی بھرتیاں برقرار رہیں گی۔ وکیل کے مطابق ان کی موکلہ پنجاب میں کوٹہ ختم ہونے سے پہلے بھرتی ہوئی تھی، اس لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ اس پر لاگو نہیں ہوتا۔
اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ درخواست گزار کے کیس پر لاگو نہیں ہوتا، جبکہ پنجاب میں فوت ہونے والے ملازمین کے بچوں کو ملازمت دینے کا قانون ختم ہو چکا ہے۔
جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ پنجاب میں اس نوعیت کی بھرتیوں کا قانون اب موجود نہیں، جبکہ چیف جسٹس جسٹس امین الدین نے کہا کہ سندھ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں یہ کوٹہ ختم کر دیا تھا۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ خلافِ قانون بھرتیاں متعلقہ اداروں نے کیں، اس میں ملازمین کا کوئی قصور نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن ملازمین نے جتنا عرصہ کام کیا، اس دوران حاصل کی گئی تنخواہیں اور مراعات واپس نہیں لی جا سکتیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ محکمہ زراعت نے خلافِ قانون کوٹہ پر بھرتی ہونے والی کلرک سمعیہ نذیر کو برطرف کر دیا تھا، جبکہ لاہور ہائیکورٹ اور بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے بھی برطرفی کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں۔

WhatsApp
Get Alert