مدارس کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی، لانگ مارچ 20 مئی تک موخر کردی ہے ، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ مدارس کی بندش کے حوالے سے پارٹی نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اسمبلی کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کیا اور احتجاج کی وجہ سے حکومت مجبور ہو کر کئی باروزراء کے ذریعے رابطے اور آج وزیراعلی کی قیادت میں اعلیٰ حکومتی وفد آکر ہمیں نہ صرف یقین دہانی کرائی کہ مدرسوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے جن افیسران نے مدرسوں کے خلاف کارروائی اور علماء کرام کو گرفتار یا تکلیف دی اس پر ہم حکومت کی جانب سے معذرت کرتے ہیں اور یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ ان مدارس کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گی ۔
وزیراعلیٰ نے بھی یہ درخواست کی ہے کہ 10مئی کو جو لانگ مارچ کا اعلان کیا اس کو دس روز تک موخر کیا جائے جس پر ہم نے صوبے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جس طرح وہ ہمارے گھر پر آکر درخواست کی ہم نے ان کا درخواست قبول کرتے ہوئے دس رو ز کے لیے یعنی10مئی کی بجائے20مئی تک موخر کیا سرکاری تقریبات سے بائیکاٹ جاری یا ختم کرنے پر ساتھیوں سے مشورہ کرکے جلد میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا‘ ۔
یہ بات انہوں نے اپنی رہائش گاہ سروے 144میں سنیئر قانون دان سینیٹر کامران مرتضیٰ ‘صوبائی جنرل سیکرٹری آغا محمود شاہ اور اپوزیشن لیڈر میر یویونس عزیز زہری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘ اس موقع پر اراکین اسمبلی اصغر ترین‘ سید ظفر آغا‘ غلام دستگیر بادینی ‘ڈاکٹر نواز کبزئی ‘زابد ریکی ‘سابق صوبائی وزیر حاجی نواز کاکڑ ‘صوبائی فنانس سیکرٹری حاجی غوث اللہ اچکزئی ودیگر بھی موجود تھے‘ ۔
مولانا عبدالواسع نے کہاکہ کامیاب احتجاج پر اسمبلی کے اندر اراکین اسمبلی اور باہر احتجاج پر کارکنوں اور خاص کر تاجروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے احتجاج میں بھرپور ساتھ دیکر یہ ثابت کیا کہ مدارس کے خلاف بحیثیت مسلمان ہم کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔
مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور علماء کرام ہمارے سرکے تاج ہے ان کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے حکومت نے جس طرح مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا کئی مدارس کو بند اور بعض علاقوں میں علماء کرام کو گرفتار بھی کیا یہ قابل افسوس ہے جس پر ہم بھرپور احتجاج کیا اور مزید اگر ضرورت پڑی تو پھر بھی احتجاج کرینگے لیکن ہمارے موقف اور کامیاب احتجاج کی بدولت حکومت مجبور ہو کر کئی بار ورزراء کے ذریعے رابطے کیے اور آج وزیراعلی سرفراز بگٹی خود آکر اس پر معذرت کرلی اور مزید مدارس کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی ۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ نے یہ بھی درخواست کیا کہ جمعیت علماء اسلام نے احتجاج کے دوسرے مرحلے میں 10مئی کولانگ مارچ کا جو اعلان کیا ان کو دس روز یعنی 20مئی تک موخر کیا جائے جس پر ہم نے صوبے کی قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جس طرح وہ گھر سے آئے تھے ہم نے بھی دس روز کے لیے موخر کیا انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ سرکاری تقریبا ت سے بائیکاٹ جاری یا ختم کرنے کے حوالے سے فی الحال فیصلہ نہیں ہوا اس پر جلد مشاورت کرکے میڈیا کو آگاہ کریں گے ۔
