برسوں بعد لیاری ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کی فائلیں کھل گئیں! 8 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)قومی احتساب بیورو (نیب) نے مبینہ طور پر لیاری ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس منصوبے سے متعلق کیس کئی برسوں تک غیر فعال رہا مگر اب دوبارہ کھولنے پر تقریباً 8 ارب روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کے مطابق اس منصوبے کی بنیاد 2002 میں رکھی گئی تھی جب لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے باعث کراچی کے ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے تھے۔ متاثرہ افراد کی آبادکاری کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مشترکہ طور پر ایک بڑے منصوبے کی مالی معاونت کی جسے نیب ذرائع نے جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ری سیٹلمنٹ منصوبہ قرار دیا۔
اب تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ منصوبے کے تحت عوامی سہولیات کے لیے مختص کی گئی زمین کا ایک بڑا حصہ غیر قانونی طور پر رہائشی پلاٹس میں تبدیل کرکے فروخت کر دیا گیا۔
نیب حکام کے مطابق اسپتالوں، اسکولوں، پارکوں اور دیگر فلاحی مقاصد کے لیے رکھی گئی اراضی پر مبینہ طور پر چائنا کٹنگ کی گئی یعنی زمین کو غیر قانونی طور پر چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے باہر کے لوگوں کو بیچا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پورا عمل جعلی ریکارڈ تیار کر کے انجام دیا گیا۔
حالیہ چھاپوں کے دوران نیب ٹیموں نے منصوبے سے متعلق 3 ہزار سے زائد الاٹمنٹ فائلیں قبضے میں لی ہیں۔ ابتدائی جانچ پڑتال میں معلوم ہوا کہ ان میں سے تقریباً 65 فیصد فائلیں جعلی الاٹمنٹ پر مشتمل تھیں اگرچہ ان پر لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے اصل افسران کے دستخط موجود تھے۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بااثر شخصیات اس انکوائری میں رکاوٹ ڈالتی رہی ہیں تاہم اب نیب نے ابتدائی مرحلہ مکمل کر کے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چھ افراد کے نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ (PNIL) میں شامل کر دیے گئے ہیں تاکہ انہیں ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے۔
حال ہی میں ہونے والے ایک ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں نیب چیئرمین نے تحقیقاتی ٹیم کو تمام قانونی اقدامات، بشمول گرفتاریوں کی مکمل اجازت دے دی ہے۔ حکام نے اس بات کی تصدیق بھی کی۔
اب تک سامنے آنے والی مبینہ خرد برد کی مالیت تقریباً 8 ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے اسی رقم میں ممکنہ مزید بدعنوانی کے حوالے سے الگ انکوائری کی اجازت بھی طلب کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکینڈل کا مالی حجم مزید بڑھ سکتا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے کئی حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران بھی تحقیقات کی زد میں ہیں۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ تحقیقات ان پس پردہ عناصر تک بھی پہنچ سکتی ہیں جنہوں نے ان بے ضابطگیوں کو ممکن بنایا۔
اب تک نیب کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔ رابطہ کرنے پر لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بیورو کی طرف سے کوئی رسمی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ لیاری ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کا آغاز لیاری ایکسپریس وے سے متاثر ہونے والے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کی منتقلی اور آبادکاری کے لیے کیا گیا تھا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف آڈٹس میں اس منصوبے میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی ضرور کی گئی لیکن اب تک کوئی باقاعدہ تحقیقات شروع نہیں ہو سکی تھیں۔
