کوئٹہ و اندرون بلوچستان گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے، جبکہ کیسکو کی جانب سے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ شہر کے گنجان آباد اور اہم علاقوں جوائنٹ روڈ، ریلوے ہاسنگ سوسائٹی اور سریاب روڈ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ کر روزانہ 9 سے 10 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث شہری شدید ذہنی اذیت، گرمی اور پانی کی قلت سمیت دیگر مسائل سے دوچار ہیں متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے مطابق کیسکو کی جانب سے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، جس کے باعث گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ میں اچانک اضافہ کردیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی واضح شیڈول یا مقف سامنے نہیں آرہاعلاقہ مکینوں نے بتایا کہ صبح 6 بجے سے 9 بجے تک مسلسل 3 گھنٹے بجلی بند رکھی جاتی ہے، جس سے لوگوں کو اپنے روزمرہ معمولات، بچوں کی اسکول تیاری اور دفاتر جانے میں شدید دشواری پیش آتی ہے۔ اس کے علاوہ دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک مزید 3 گھنٹے بجلی کی بندش کی جاتی ہے، جس دوران شدید گرمی میں گھروں کے اندر رہنا بھی مشکل ہوجاتا ہے شہریوں کے مطابق رات کے اوقات میں بھی صورتحال بہتر نہیں، کیونکہ رات 9 بجے سے 12 بجے تک بجلی بند کردی جاتی ہے، جس سے گھروں میں بچے، خواتین، بزرگ اور بیمار افراد شدید اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔ خاص طور پر امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ اور چھوٹے بچوں کو رات کے وقت بجلی نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات درپیش ہیں ریلوے ہاسنگ سوسائٹی اور جوائنٹ روڈ کے رہائشیوں نے شکایت کی کہ بجلی کی بندش سے پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہورہی ہے کیونکہ گھروں میں نصب موٹرز اور واٹر پمپس بجلی نہ ہونے کے باعث نہیں چل پاتے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے سریاب روڈ کے مکینوں نے کہا کہ شدید گرمی میں پنکھے، کولر اور دیگر برقی آلات بند ہونے کے باعث معمولات زندگی مفلوج ہوچکے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف بجلی کے بلوں میں اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف صارفین کو بنیادی سہولت سے بھی محروم رکھا جا رہا ہیمتاثرہ شہریوں نے کیسکو حکام کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور بجلی کی فراہمی کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے تاکہ عوام اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو منظم کرسکیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو گرمیوں کے آنے والے دنوں میں مسائل مزید سنگین ہوجائیں گے۔ انہوں نے وزیراعلی بلوچستان، چیف سیکریٹری اور کیسکو کے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ کوئٹہ کے شہریوں کو بجلی کی طویل بندش سے نجات دلانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں کمی لائی جائے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بجلی بحران نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ چھوٹے کاروبار، دکانوں، ورکشاپس اور تجارتی مراکز کو بھی متاثر کررہا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ عوام نے خبردار کیا کہ اگر لوڈشیڈنگ کے مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو احتجاجی مظاہروں کا دائرہ وسیع ہوسکتا۔

WhatsApp
Get Alert