بلوچستان میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، اغواء ، شاہراہوں کی بندش، مسافروں کے قتل، تاجروں سے بھتہ خوری اور روز بروز بڑھتے ہوئے خونریز واقعات نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے صوبے کی امن و امان کی مخدوش اور غیر یقینی صورتحال کے حوالے سے کہنا تھا کہ بلوچستان پر مسلط حکومت مکمل طور پر ناکام ثابت ہوچکی ہے۔ صوبے میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، اغواء ، شاہراہوں کی بندش، مسافروں کے قتل، تاجروں سے بھتہ خوری اور روز بروز بڑھتے ہوئے خونریز واقعات نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے، مگر حکمران اب بھی نمائشی بیانات، کاغذی دعوؤں اور جھوٹے اعدادوشمار کے ذریعے زمینی حقائق چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ جو حالات تین سال پہلے تھے، آج صورتحال اس سے تیس گنا زیادہ خراب ہوچکی ہے۔ ہر طلوع ہونے والا دن بلوچستان کیلئے کسی نئے سانحے، نئی لاش، نئے احتجاج اور نئی بے چینی کی خبر لے کر آتا ہے۔ عوام یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ کیا اب بھی مزید ناکام تجربات کا انتظار کیا جائے؟ کیا بلوچستان صرف تجربات، ناکام پالیسیوں اور سلیکٹڈ حکمرانوں کی لیبارٹری بن چکا ہے؟ کیا اس سرزمین کے عوام کی جان، عزت، کاروبار، مستقبل اور احساسِ محرومی کی کوئی قیمت نہیں؟۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ بلوچستان جل رہا ہے، عوام چیخ رہے ہیں، تاجر عدم تحفظ کا شکار ہیں، نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلے جارہے ہیں، مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ آج بلوچستان کے عوام شدید خوف، بے یقینی، اضطراب اور مایوسی کا شکار ہیں۔ نہ جان و مال محفوظ ہے، نہ سفر محفوظ ہے، نہ کاروبار محفوظ ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کے مستقبل کی کوئی ضمانت باقی رہی ہے۔ کوئی شریف النفس شخص اپنے بچوں کو اطمینان کے ساتھ گھر سے باہر نہیں نکال سکتا۔ نہ کوئی ٹیچر محفوظ ہے اور نہ ہی پولیس اہلکار خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ وزرائ اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر خود امن و امان کا رونا رو رہے ہیں، جو اس حکومت کی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں روزگار ختم ہوچکا ہے، بارڈر بند ہیں، جن سے لاکھوں خاندانوں کے چولہے جلتے تھے آج وہ بجھ چکے ہیں۔ زراعت تباہ حالی کا شکار ہے، کسان بدحال اور نوجوان بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ معدنیات پر مائنز اینڈ منرلز بل کے ذریعے قبضے کئے جارہے ہیں اور مقامی آبادی کو ان کے وسائل، زمینوں اور حقِ ملکیت سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کے صبر و تحمل کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور نہ ہی عوام کے غیض و غضب کو مزید دعوت دی جائے، کیونکہ محرومی، بے روزگاری، بدامنی اور ناانصافی جب حد سے بڑھ جائے تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی تائید سے محروم حکومت کا عوام سے کوئی حقیقی تعلق اور سروکار باقی نہیں رہا، یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کے فیصلوں میں نہ عوام کا درد نظر آتا ہے، نہ بلوچستان کے زمینی حقائق کا ادراک اور نہ ہی مسائل کے حل کیلئے کوئی سنجیدہ حکمت عملی دکھائی دیتی ہے۔ آج خود حکومتی وزراء ، ارکان اور نمائندے میڈیا ٹاکس اور مختلف فورمز پر یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں اپنے ہی حلقوں تک رسائی حاصل نہیں، انہیں سیکیورٹی فراہم کی جائے، ان کیلئے راستے محفوظ بنائے جائیں اور انہیں عوام کے درمیان جانے کی اجازت دی جائے۔ جب حکومت کے اپنے وزراء عدم تحفظ کا شکار ہوں، جب حکمران خود اپنے علاقوں میں جانے سے خوفزدہ ہوں، تو پھر عام عوام کس کے سہارے زندہ رہیں؟ یہ صورتحال اس حکومت کی مکمل ناکامی، ریاستی رٹ کے خاتمے اور جعلی مینڈیٹ کی بدترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اب نمائشی دعوؤں، جعلی ترقیاتی نعروں، فوٹو سیشنز اور کاغذی کارکردگی سے دھوکہ نہیں کھائیں گے۔ امن و امان بندوق، طاقت، وقتی آپریشنوں اور زبردستی مسلط کردہ حکمرانی سے بحال نہیں ہوتا بلکہ عوامی اعتماد، حقیقی مینڈیٹ، سیاسی استحکام، انصاف اور عوام دوست پالیسیوں سے قائم ہوتا ہے۔ فارموں کی بنیاد پر بننے والی حکومتیں کبھی عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ پشین کا عظیم الشان جلسہ تحفظِ مدارس دینیہ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے مظلوم عوام کی آواز، حقوقِ بلوچستان کی جدوجہد، نااہل حکمرانی کے خلاف عوامی ریفرنڈم، بدامنی اور سلیکٹڈ نظام کے خلاف بھرپور عوامی اعلان ثابت ہوگا۔ یہ جلسہ حکمرانوں کو واضح پیغام دے گا کہ بلوچستان کے عوام مزید خاموش تماشائی نہیں رہیں گے بلکہ اپنے حقوق، امن، وسائل اور مستقبل کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر آواز بلند کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس مایوس کن صورتحال میں جمعیت علمائ اسلام میدان میں موجود ہے اور عوام کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ جمعیت علمائ اسلام ہر مظلوم، محروم، بے آواز اور پسے ہوئے طبقے کی نمائندہ جماعت ہے اور ہم بلوچستان کے عوام کے حقوق، امن، عزت، وسائل اور روشن مستقبل کیلئے ہر فورم پر بھرپور جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بلوچستان مزید ناکام تجربات، مصنوعی حکمرانی اور بے حس قیادت کا متحمل نہیں ہوسکتا، اب وقت آگیا ہے کہ عوام کی حقیقی رائے، مینڈیٹ اور آواز کا احترام کرتے ہوئے بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ عوامی اعتماد، سیاسی استحکام اور حقیقی جمہوری عمل کے ذریعے نکالا جائے۔
