عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو سوموار سے اسمبلی نہیں چلے گی، محمود خان اچکزئی


اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں محمود کی حیثیت سے جو عہدہ میرے پاس ہے اس کی حیثیت سے انتہائی نرم الفاظ میں آپ سے کہتا ہوں کہ حکومت واضح طور پر بتائے عمران خان کی ملاقات کب ہو گی؟ عمران خان کی مرضی سے فیملی کی مرضی کے ہسپتال علاج کروانا ہے یا نہیں؟ 3 دن کا وقت ہمیں بتایا جائے ورنہ سوموار سے یہ اسمبلی اگر نہیں چلے گی تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے، ملک میں پنکی منکی ہو رہی ہے پیپلز پارٹی کے ہاتھ مروڑنے کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی کی اسمبلی میں تقاریر مسلسل سنسر کی جارہی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے گزتشتہ روز اسمبلی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ عمران خان وزیر اعظم رہ چکا ہے اس ملک کے کروڑوں عوام کے دل کی وہ آواز ہے، آپ خود آپ ہمیں پش کر رہے ہیں کہ ہم پھر ہنگاموں کی طرف جائیں؟ ہم پھر یہاں کسی کو بولنے نہ دیں؟ دنیا کا قانون ہے کہ بدترین قاتلوں، ڈاکوؤں، ڈرگ ٹریفکرز، بدکار انسانوں کو جیلوں میں بند کیا جاتا ہے لیکن ان کے ملاقات پر پابندی نہیں ہوتی۔عمران خان اس ملک کا سب سے پاپولر لیڈر ہے، بہنیں منت کر رہی ہیں، سیاسی لوگ منت کر رہے ہیں، دنیا منت کر رہی ہے، آپ ملاقات کی اجازت نہیں دیتے۔ آپ ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟ اگر آپ کا فیصلہ ہے، شہباز اور اس کے دوستوں کا فیصلہ ہے، یہ نہیں چلے گا کہ بس ہم سب کھڑے ہوں کہ جی شہباز، تم لوگوں کا سر رہے سلامت قومی نشان ہمارا۔ ایسے نہیں ہو گا جناب اسپیکر، یہ پارلیمنٹ پاکستان کی طاقت کا سرچشمہ تھا۔ دکھ ہوتا ہے میں کسی کا نام نہیں لیتا، وہ پارٹیاں جو چھوٹے صوبوں کی نمائندگی کرتی ہیں انہوں نے بھی 26ویں ترمیم کو ووٹ دیا تھا۔دنیا جانتی ہے کہ گزشتہ انتخابات میں یہ پارلیمنٹ کس طرح وجود میں لائی گئی۔ جنابِ اسپیکر پارلیمنٹ کی باقاعدہ بولی لگی، کروڑوں میں سیٹیں بیچی گئیں، وہ پارٹی جو سب سے پاکستان کی پاپولر پارٹی تھی، پھر بھی پتہ نہیں ڈیڑھ سو نشستوں پہ یا دو سو نشستوں پہ اس پارٹی نے الیکشن لڑا اور وہ سارے پروگرام کو برباد کر دیا، خدا بھلا کرے پاکستان کی یوتھ کا۔اس کے بعد جب پارلیمنٹ بنی، جنابِ اسپیکر پھر اسمبلی میں جو حالت تھی آپ کو یاد ہے، چار مہینے تک اس اسمبلی میں وہ ہنگامہ تھا کہ کسی کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اس کے باوجود کہ ایک غلط پارلیمنٹ، ناروا پارلیمنٹ، ہم نے کوشش کی، تحریکِ انصاف کے لوگوں نے کوشش کی کہ اس ماحول کو ذرا اچھائی کی طرف لے جایا جائے۔”اگر عمران خان کی ملاقاتوں پہ یہ پابندی رہی، پھر جناب سپیکر ہم سے گلہ نہ کریں کہ پارلیمنٹ نہیں چل رہا۔پھر ہم سے گلہ نہ کریں کہ پارلیمنٹ میں کیا ہو رہا ہے۔جناب سپیکر، وہ شریف آدمی بیمار ہے۔کیا مطالبہ ہے اس کے خاندان کا؟ کیا مطالبہ ہے اس کے کولیگز کا؟قیدی ویسے بھی پراپرٹی ہوتا ہے گورنمنٹ کی۔اگر وہ ہندوستان کے جو جاسوس آپ نے گرفتار کیے تھے، ان کا بھی علاج ہوتا تھا۔یہ آدمی پرائم منسٹر نہ سہی، فلاں نہ سہی، پاکستان کا سٹیزن ہے۔اور وہ کہتا ہے مجھے فلانے ہسپتال لے جاؤ۔ اس میں کون سی بری بات ہے جناب سپیکر؟اگر واقعی شہباز صاحب آپ لوگ سارے ٹینشن کم کرنا چاہتے ہیں، ایک ہفتے کے اندر عمران خان سے ملاقات کی پابندی کو ہٹا کر جس جس ہسپتال میں وہ علاج کروانا چاہتے ہیں وہاں پہنچائیں، یہ کشیدگی کم ہو جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert