28ویں ترمیم کے نام پر آئینی ڈھانچے کو مکمل طور پرتبدیل کیا جا رہا ہے ، مقصد عمران خان اور پی ٹی آئی کو ملیا میٹ کرناہے،شیر افضل مروت

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) رکن پارلیمنٹ شیر افضل مروت کا کہنا ہے اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے نام پہ ملک کے آئینی ڈھانچے کو مکمل طور پہ تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ سارے جتنے بھی عوامل ہیں، اس میں محرک عمران خان ہیں، ان سب کے پیچھے یہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان جو ہیں، ان کو سیاسی پس منظر نامہ سے ملیا میٹ کیا جا سکے۔
میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئےا نہوں نے کہا ہر شخص زبانی طور پر انقلابی بنا ہوا ہے۔ اپریل 2024 میں عمران خان نے مجھے احتجاجی کمیٹی کا چیئرمین بنایا، مگر 2 دن بعد شبلی فراز نے یہ فیصلہ واپس کروا دیا ۔ اگر وہ فیصلہ برقرار رہتا تو آج احتجاج پارٹی کے پاس رہتا۔ احتجاج حکومتی عہدیداروں کے نہیں بلکہ احتجاجی کمیٹی کے سپرد ہونا چاہیے ۔ میں مشکل ترین وقت میں نکلا تھا کوئی احسان نہیں تھا مجھ پر کسی کا۔ میں اس پی ٹی آئی کے طفیل کوئی سینیٹر، کوئی منسٹر نہیں رہا تھا۔ میں نے ایک کوشش کی، اس وقت جب کوئی نہیں مل رہا تھا اور 8 فروری کے بعد یہ لوگ نکلے، تو انہوں نے مجھے جو صلہ دیا ہے اور نہ صرف صلہ دیا بلکہ کردار کشی کی مہم چلائی۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کیسے احمق اور بے وقوف لوگ ہیں جن کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ ضرورت کے وقت میں ایسے ساتھیوں کو کھویا نہیں جاتا۔ یہ ایک آرگنائزڈ (منظم) فیصلہ تھا اور جنہوں نے یہ کروایا ہے، انہوں نے پارٹی کو کون سا فائدہ دیا ہے ۔ آج بھی میں پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں۔
اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے نام پہ ملک کے آئینی ڈھانچے کو مکمل طور پہ تبدیل کیا جا رہا ہے ، سارے جتنے بھی عوامل ہیں، اس میں محرک عمران خان ہیں، ان سب کے پیچھے یہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان جو ہیں، اس کو سیاسی پس منظر سے یا سیاسی جو منظر نامہ ہے، اس… pic.twitter.com/aLT4Fc62y0
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) May 18, 2026
