حکومتی سطح پر عائد کی جانے والی ناروا پابندیوں کے خلاف آواز بلند کرنا جمعیت علماء اسلام اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ “تحفظِ مدارس و حقوقِ بلوچستان کانفرنس” خطے کے سیاسی، دینی اور سماجی منظرنامے پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ کانفرنس کی تیاریوں کے حوالے سے صوبے کے تمام اضلاع میں بھرپور سرگرمیاں جاری ہیں اور کارکنان و ذمہ داران شب و روز محنت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کانفرنس کی کامیابی کے لیے تیاریوں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ یہ اجتماع بلوچستان کے عوامی جذبات، دینی احساسات اور صوبے کے حقوق کی حقیقی ترجمانی بن سکے۔انہوں نے کہا کہ مدارسِ دینیہ کا تحفظ، ان کی آزادی، رجسٹریشن کے معاملات اور ان کے خلاف حکومتی سطح پر عائد کی جانے والی ناروا پابندیوں کے خلاف آواز بلند کرنا جمعیت علمائ اسلام اپنی دینی، قومی اور سیاسی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ مدارس کے تحفظ کی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے اور ہر مشکل امتحان میں سرخرو رہی ہے۔ مدارس صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ اسلامی اقدار، دینی تشخص اور قومی نظریات کے محافظ ہیں، لہٰذا ان کے خلاف کسی بھی قسم کی منفی پالیسی یا اقدام ہرگز قابل قبول نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد میں جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر اصولی مؤقف اختیار کیا۔ ریکوڈک، سیندک، گوادر پورٹ، سوئی گیس، این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری جیسے اہم قومی معاملات پر جمعیت علماء اسلام نے بلوچستان کے حقوق کیلئے بڑی قربانیاں دیں اور کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ صوبوں کو خودمختاری دلانے کی جدوجہد میں جمعیت علماء اسلام نے ہر فورم پر موثر کردار ادا کیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام قربانیوں کے باوجود مسلسل تین ادوار سے جمعیت علماء اسلام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والی نشستیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والی دوسری جماعتوں کے حوالے کی جاتی رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک جمعیت علماء اسلام کے ساتھ یہ سیاسی ناانصافی اور جمہوری مذاق جاری رہے گا؟ کب تک عوام کو ان کے حقیقی حقِ رائے دہی سے محروم رکھا جائے گا؟انہوں نے کہا کہ انتخابی انجینئرنگ نے عوام کو جمہوری عمل سے بدظن کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور انہی عوامل نے ایسے بیانیوں کو تقویت دی جو جمہوری نظام کے مخالف تھے۔ بعض قوتوں نے تشدد اور انتشار کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، لیکن جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ سیاسی بصیرت، آئینی جدوجہد اور جمہوری راستے کو اختیار کیا۔ آج وقت نے ثابت کردیا کہ جمعیت علماء اسلام کا مؤقف درست تھا اور انتشار و نفرت کی سیاست ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نہ صرف مدارس اور دینی اقدار کے تحفظ بلکہ بلوچستان کے حقوق، جمہوریت کے استحکام اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کے دفاع کی جنگ بھی پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھے گی۔
