محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی میں خطاب، عمران خان کو انصاف دینے اور جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ

کوئٹہ + اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں تاہم بعض مواقع پر قومی مفاد میں انہیں مؤخر کرنا پڑتا ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بائیکاٹ پر تھے، تاہم چین کے وفد کی آمد اور پاکستان و چین کی دیرینہ دوستی کے احترام میں انہوں نے اجلاس میں شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان گہری اور تاریخی دوستی ہے جسے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق چین خطے میں مثبت سفارتی کردار ادا کر رہا ہے جس کی وہ حمایت کرتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں مطالبہ کیا کہ عمران خان کو انصاف فراہم کیا جائے، ان کی صحت اور علاج کے لیے مناسب سہولیات مہیا کی جائیں اور ملاقاتوں پر پابندیاں ختم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہزاروں افراد، جن میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے شہری بھی شامل ہیں، مختلف مقدمات اور ایف آئی آرز کا سامنا کر رہے ہیں، جو ان کے بقول صرف اس لیے ہے کہ وہ جمہوریت، بنیادی حقوق اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک عمران خان کو انصاف نہیں دیا جاتا اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا، اپوزیشن بجٹ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کرے گی اور اسمبلی کی کارروائی نہیں چلنے دے گی۔
بعد ازاں قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی حیثیت کمزور ہو کر رہ گئی ہے اور ملک میں وفاداریاں خریدنے اور بیچنے کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ الیکشن جیتنے والے سیاسی رہنما جیل میں ہوں اور ان کی ملاقاتوں پر پابندی ہو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات کے باوجود چین کے وفد کو خوش آمدید کہنا قومی مفاد کا تقاضا تھا، اور پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی “ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری” ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر فورم پر جمہوریت، انصاف اور آئین کی بالادستی کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
