آئی ایم ایف وفد مذاکرات مکمل کرکے واپس روانہ، بجٹ پر ورچوئل بات چیت جاری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اسلام آباد میں موجود آئی ایم ایف وفد نے آئندہ مالی سال کے بجٹ اور معاشی اہداف سے متعلق شیڈول مذاکرات مکمل کرنے کے بعد واپس روانگی اختیار کرلی جبکہ پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان ورچوئل مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ آن لائن مذاکرات کل سے دوبارہ شروع ہوں گے جن میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ اہداف، ٹیکس اصلاحات اور معاشی فریم ورک پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان سے آئندہ تین برسوں کے لیے میکرو اکنامک فریم ورک بھی طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے مذاکرات کے دوران ٹیکس نیٹ میں اضافے اور ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق حکومت نے 2027 تک جی ڈی پی کے دو فیصد کے برابر بنیادی سرپلس برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ مذاکرات میں توانائی شعبے کی اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری، پاور سبسڈی اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے کلائمیٹ فنڈنگ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام پر بھی تفصیلی گفتگو کی جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا۔
وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ورچوئل مذاکرات کے ذریعے بجٹ اہداف کو حتمی شکل دی جائے گی جبکہ آئی ایم ایف کا اگلا جائزہ مشن رواں سال کے دوسرے نصف میں متوقع ہے۔
