کوئٹہ: مہنگائی و بدامنی کے خلاف جماعتِ اسلامی کے احتجاج کی کوشش، پولیس کی رکاوٹ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی ملک گیر کال پر کوئٹہ میں پریس کلب کے باہر مہنگائی اور بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے بھاری نفری اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ پریس کلب کے دروازے گھیر کر مظاہرین کو روک دیا۔
اس موقع پر پولیس نے احتجاج کرنے والے کارکنان سے جماعت کے جھنڈے اور بینرز بھی قبضے میں لے لیے۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر جماعتِ اسلامی بلوچستان کے امیر اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اپنے کارکنان کے ہمراہ خود گرفتاری دینے کے لیے پہنچ گئے۔
کارکنان نے پولیس کی رکاوٹوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی۔
میڈیا سے گفتگو اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ حکومت نے پرامن احتجاج کو روک کر آمریت کی یاد تازہ کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 کو سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے اسے چوروں، ڈاکوؤں اور منشیات فروشوں کے خلاف استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایک “عوام دشمن ٹولہ” مسلط ہے جس نے مہنگائی اور عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوام کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی، منشیات کی کھلے عام فروخت اور لاپتہ افراد کے واقعات تشویشناک ہیں، لیکن ان مسائل کے خلاف کارروائی کے بجائے احتجاج کو دبایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل، مہنگائی کے خاتمے اور بدعنوانی کے خلاف عملی اقدامات کرے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔
