زیارت میں دہشت گردی کے واقعات، بدامنی اور اغواء پر تشویش: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے ضلع زیارت کے علاقے منگی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کا تسلسل ہے۔
مرکزی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نامعلوم مسلح افراد نے کوئلے سے لوڈ پانچ گاڑیوں اور دو ٹریکٹروں کو نذرِ آتش کیا جبکہ چار افراد مسعود خان، اشرف خان، جاوید خان اور شین گل خان کو بندوق کی نوک پر اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، جو تاحال لاپتہ ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کوئٹہ–ہرنائی روڈ، دکی–سنجاوی روڈ پر ٹرکوں کو جلانے، زرغون غر میں دو افراد کی لاشیں پھینکنے، کوئٹہ منگلہ میں قتل و اغواء اور ماری گیس کمپنی کی گاڑیوں پر حملے جیسے واقعات مسلسل جاری ہیں، جو صوبے میں سنگین سیکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
پارٹی کے مطابق ان واقعات کی آڑ میں بعض قوتیں قبائلی زمینوں پر قبضے اور علاقے میں چیک پوسٹوں کے نام پر دباؤ بڑھا رہی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے جاری بیانات محض ناکامی چھپانے کے مترادف ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کو بعض حلقے سیکیورٹی اداروں سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ اگر انکوائری کی جائے تو اصل حقائق سامنے آسکتے ہیں۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں قائم چیک پوسٹوں اور قلعہ نما پالیسیوں کے باوجود بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کوئلہ اور دیگر معدنی کاروبار کو بند کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال عوام کے روزگار اور معیشت کو شدید متاثر کر رہی ہے، اور اگر حالات نہ بدلے گئے تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
آخر میں مطالبہ کیا گیا کہ اغواء کیے گئے افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے، ٹرک مالکان کو مکمل معاوضہ دیا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert