امریکہ میں گرین کارڈ کا حصول انتہائی سخت، اب اپنے ملک واپس جا کر اپلائی کرنا ہوگا
نئی امیگریشن گائیڈ لائنز کے تحت اب امریکہ کے اندر موجود لاکھوں غیر ملکیوں کیلئے اسٹیٹس تبدیل کروانا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی شہریوں کے لیے ملک میں مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے قوانین میں اب تک کی سب سے بڑی اور سخت ترین تبدیلی کردی، نئی امیگریشن گائیڈ لائنز کے تحت اب امریکہ کے اندر موجود لاکھوں غیر ملکیوں کے لیے اپنا اسٹیٹس تبدیل کروانا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن (یو ایس سی آئی ایس) کی جانب سے جاری کردہ نئی گائیڈ لائنز کے تحت اب امریکہ میں عارضی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کو ملک کے اندر رہتے ہوئے گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے سے روک دیا گیا ہے، اب عام طور پر تمام درخواست گزاروں کو مستقل رہائش کے لیے اپنے آبائی ممالک واپس جا کر ہی اپلائی کرنا ہوگا۔
معلوم ہوا ہے کہ اس نئے قانون سے امریکہ میں قانونی طور پر موجود لاکھوں غیر ملکی براہِ راست متاثر ہوں گے، ان میں انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس (F-1 ویزہ ہولڈرز) پڑھائی مکمل کرنے کے بعد جو طلبہ گرین کارڈ کے لیے کیس فائل کرتے تھے، عارضی ورکرز (H-1B اور دیگر ورک ویزہ ہولڈرز) امریکہ میں ملازمت کرنے والے وہ پیشہ ور افراد جو سپانسر شپ کے ذریعے مستقل رہائش کے خواہش مند ہوتے تھے، غیر ملکی سیاح (B1/B2 وزٹ ویزہ ہولڈرز) وہ افراد جو سیاحت یا کاروباری ویزہ پر امریکہ آ کر وہاں شادی یا دیگر بنیادوں پر اسٹیٹس تبدیل کرواتے تھے۔
یونائیٹڈ اسٹیٹس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) کے مرکزی ترجمان زیک کاہلر نے اس نئے قانون کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ میں عارضی طور پر رہائش پذیر ایسے تمام غیر ملکی افراد جو اب گرین کارڈ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں لازمی طور پر اپنے وطن واپس جانا ہوگا اور وہاں موجود امریکی سفارت خانوں یا قونصل خانوں کے ذریعے قونصلر پروسیسنگ کے تحت درخواست دینا ہوگی۔
تاہم امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن کی جانب سے جاری کردہ نئی گائیڈ لائنز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ کے اندر رہتے ہوئے اسٹیٹس کی ایڈجسٹمنٹ کی اجازت اب صرف اور صرف انتہائی غیر معمولی اور غیر متوقع حالات میں ہی دی جا سکے گی، لیکن اس استثنیٰ کا معیار بھی اتنا سخت رکھا گیا ہے کہ عام درخواست گزار اس پر پورا نہیں اتر سکیں گے۔
