امریکہ اور ایران جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع کے قریب پہنچ گئے، فنانشل ٹائمز کا دعویٰ

تہران (قدرت روزنامہ)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کو روکنے کے لیے ثالثی کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی میں مزید 60 روز کی توسیع کے معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت کے لیے ایک بنیادی فریم ورک بھی تیار کیا جائے گا۔
ممکنہ معاہدے کے مطابق آبنائے ہرمز کومرحلہ وار دوبارہ کھولا جائے گا، ایران کی جانب سے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے موزوں انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے یا اسے کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے پر بات چیت کی جائے گی۔بدلے میں امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں نرمی کرے گا اور مرحلہ وار ایرانی اثاثوں کو بحال کرنے اور اقتصادی پابندیوں میں ریلیف دینے پر رضامند ہوگا۔
اس اہم پیش رفت میں پاکستان اور قطر کے ثالثوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی وفد کے سربراہ اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور قطری مذاکرات کاروں نے جمعرات اور جمعہ کو تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ انتہائی اہم ملاقاتیں کیں۔
سنیچر کے روز جنرل عاصم منیر کے تہران سے روانہ ہونے کے بعد پاکستانی فوج (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی مفاہمت کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے”۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ثالثی کاروں نے ایرانی وفد (جس کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے) سے بات چیت کے دوران امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ برقرار رکھا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتے کے روز میڈیا کو بتایا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے پہلے مرحلے کے طور پر ایک “یادداشتِ مفاہمت” پر بات چیت کر رہا ہے، جس کے بعد اگلے 30 سے 60 دنوں کے اندر ایک وسیع تر معاہدے کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔ انہوں نے صورتحال کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین معاہدے کے “بہت دور اور بہت قریب” بھی ہیں کیونکہ ماضی میں امریکی بیانات میں تضاد رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سویلین رہنما باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران اپنے جائز حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم وہ سفارت کاری کا استعمال جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 8 اپریل سے جاری جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ مضبوط کیا ہے اور اگر امریکہ نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی حماقت کی تو اس کا تباہ کن جواب دیا جائے گا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور آنے والے چند دنوں میں کوئی بڑا اعلان متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے۔
