کوئٹہ میں ٹرین پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، بلوچستان ہائی کورٹ بار کا 25 مئی کو عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کوئٹہ میں ٹرین پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی دہشت گردی، انسانیت دشمنی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری مشترکہ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں، جن میں بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ میں ٹرین پر ہونے والا حملہ نہ صرف افسوسناک اور المناک واقعہ ہے بلکہ ملک کے امن، استحکام اور ریاستی اداروں کے لیے کھلا چیلنج بھی ہے۔ وکلا رہنماؤں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، تاہم پوری قوم ان کے خلاف متحد ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز، عوام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملے دراصل پوری قوم پر حملے کے مترادف ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
بار ایسوسی ایشن نے اس افسوسناک واقعے کے خلاف احتجاجاً پیر 25 مئی کو بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائیوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وکلا برادری دہشت گردی کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائے گی اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوگی۔
بیان میں شہداء کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ متاثرین کو فوری ریلیف اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
وکلا رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو فوری گرفتار کرکے سخت ترین سزا دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت ناقابل قبول ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ملک میں امن، قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے وکلا برادری اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
