کوئٹہ میں بڑھتی ہوئی جرائم کی وارداتوں، چوری، ڈکیتی اور پولیس کی مسلسل ناکامی کی شدید مذمت، معلوم چوروں کے خلاف عدم کارروائی پولیس کی ممکنہ ملی بھگت یا مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کرتی ہے، آئی جی پولیس تحقیقات کرائیں ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ بیا ن میں کوئٹہ شہر میں بڑھتی ہوئی جرائم کی وارداتوں، چوری، ڈکیتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں پولیس کی مسلسل ناکامی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز سول لائن پولیس تھانے کے حدود میں چوری کی واردات کے دوران اسلحہ کے زور پر ایان خان سے موٹر سائیکل ، دو موبائل فونزاور نقدی چھین کر فرار ہوگئے اسی طرح ہزار گنجی میں پارٹی رکن جانان خان سے موٹر سائیکل چھینا گیا اور مزاحمت پر ان پر فائرنگ کرکے انہیں شدید زخمی کیا گیا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ شہر میں جرائم پیشہ عناصر کھلے عام سرگرم ہیں، شہریوں کی موٹر سائیکلیں، قیمتی سامان اور دیگر املاک چوری ہو رہی ہیں مگر پولیس کی جانب سے معلوم اور نامزد چوروں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ یہ صورتحال عوام میں شدید بے چینی پیدا کر رہی ہے اور پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔معلوم چوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کی عدم کارروائی متعلقہ عناصر کے ساتھ پولیس کی ممکنہ ملی بھگت یا مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کرتی ہے ۔ چوری شدہ موٹر سائیکلوں اور دیگر قیمتی سامان کی فوری برآمدگی کو یقینی بناکر شہر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی لہر پر قابو پانے کے لیے موثر اور عملی اقدامات کی سخت ضرورت ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست اور پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے جس سے غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی واضح کرتی ہے کہ اگر جرائم کے سدباب، چوروں کی گرفتاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی سطح پر شدید احتجاج کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔بیان میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس بلوچستان سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ کوئٹہ شہر کے تمام پولیس تھانواور بالخصوص جہاں جرائم کی شرح انتہائی زیادہ ہےں کے متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز اور عملے کے کردار کی فوری تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور چوری کی وارداتوں میں ملوث عناصر کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔
