رکھنی میں ٹرک نذرِ آتش، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا سیکیورٹی فورسز اور حکومت پر شدید تنقید


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں رکھنی رڑکن کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں پشتون عوام کے کرورڑوں روپے مالیت کے ٹرکوں کوجلانے، ڈرائیورز کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کرنے اور دھونس وھمکیوں پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کالعدم تنظیم اور سیکورٹی فورسز کے نام پر مبینہ پشتون دشمن کاررائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتون عوام کی زندگی، معیشت اور امن کو تباہی کے دہانے پر پہنچا نے کے لیے نام نہاد مسلط حکومت کو ٹاسک دیا گیا ہے ایک جانب پشتون وطن کے مختلف اضلاع بالخصوص ہرنائی، کوئٹہ،دکی، زیارت، لورالائی، میختر، بارکھان، رکھنی، موسیٰ خیل ودیگر علاقوں میں معدنیات، وسائل کے نام پر بھتہ خوری جاری ہے۔
کالعدم تنظیم اور ایف سی مل کر کوئٹہ کے نجی بینکوں میں بھتہ کے رقم جمع کررہے ہیں۔ مائنز اونرز، کانکنوں کو اغواء کیا جاتاہے، گاڑیاں نذر آتش کی جاتی ہے، ڈرائیورز کو قتل وزخمی کیا جاتا ہے اورخوف وہراس کا ماحول بنا کر ہر طرف سے لوٹ مار جاری ہے جبکہ ایف سی کو سالانہ اربوں روپے سیکورٹی کے نام پر دیئے جاتے ہیں اور کوئلہ کے فی ٹن پر الگ سے تقریباً 300روپے الگ سے غیر قانونی بھتہ کے طور پر وصول کررہی ہے۔ اس طرح کرورڑوں اربوں روپے لینے کے باوجود پشتون دشمنی پر مبنی اقدامات مسلسل جاری ہیں جبکہ سیکورٹی فورسز ناکہ لگانے اورعوام کی جدی پشتی زمینوں پر (محدود علاقہ) کے بورڈز لگاکر قبضہ گیری میں مصروف ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں سیکورٹی ادارے، انتظامیہ اور حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ لوڈ ٹرکوں پر حملے، راکٹ، فائرنگ اور مسلح کارروائیاں سرعام ہوتی رہیں، مگر انتظامیہ تماشائی بنی رہی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں رکھنی سمیت مختلف شاہراہوں پر ناکہ بندی کرکے فورسز، انتظامیہ کی موجودگی میں کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں اور املاک کو نذرِ آتش کیا جا تا رہا، گزشتہ دنوں زیارت منگی کے مقام پر بھی اس قسم کا واقعہ ہوا۔ کوئٹہ کے منگلہ، سرہ خوہ، ہنہ، پی ایم ڈی سی، زرغون غر، شعبان ودیگر علاقوں میں بھی مسلسل اس قسم کے واقعات ہورہے ہیں جبکہ ہر طرف پہاڑی سلسلوں اور زمین پر ایف سی کی چھاونیاں، چیک پوسٹیں موجود ہیں۔
اربوں روپے لینے والی سیکورٹی فورسز اور مسلط نام نہاد فارم 47کی حکومت آج تک کسی ایک مجرم کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی جبکہ ان واقعات میں بے گناہ انسانوں کا خون ناحق بہایا جارہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کسی بھی صورت پشتون وطن میں بدامنی اور دہشتگردی کو قبول نہیں کریگی اور حکومتِ پاکستان اور ریاستی ادارو ں پر واضح کرتی ہے کہ پشتون عوام اور سرزمین کا تحفظ ہمارے عوام خود بھی کرسکتے ہیں۔
اگر حکومت اور سیکورٹی فورسز عوام کے سرومال میں ناکام ہوچکی ہے تو وہ فوری طور پر اپنی نااہلی کو تسلیم کرکے مستعفی ہو جائیں۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پشتون عوام کا معاشی قتل عام بند کیا جائے، شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے، قاتلوں اور سہولت کاروں کو فوری گرفتار کیا جائے اور بے گناہ شہریوں کے خون سے کھیلنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ خاموشی اور غفلت مزید خونریزی کو جنم دے رہی ہے اور عوام اب اس ظلم، نااہلی اور بے حسی کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert