ایم کیو ایم کا کراچی میں پانی کی بندش کے خلاف سندھ اسمبلی میں شدید احتجاج

کراچی اس وقت کربلا کا منظر پیش کررہا ہے، یہاں کے شہری پیاسے ہیں، اپوزیشن لیڈر


کراچی(قدرت روزنامہ)کراچی میں پانی کی بندش کیخلاف ایم کیو ایم ارکان نے سندھ اسمبلی میں شدید احتجاج کیا جس کے باعث ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نوید انتھونی کی زیر صدارت منعقد ہوا جہاں ایم کیو ایم ارکان نے کراچی میں پانی کی بندش کے خلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی شروع کردی، ارکان کی جانب سے ’کراچی کو پانی دو‘ کے نعرے لگائے گئے۔
ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سوالات و جوابات کے بعد اس پر بات کریں گے تاہم ایم کیو ایم ارکان نے احتجاج جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پانی کا اہم مسئلہ ہے اس پر پہلے بات کریں۔
ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ہم بزنس معطل کرکے نکتہ اعتراض پر بات کر لیتے ہیں۔ شور شرابے میں محکمہ فشریز اور لائیو اسٹاک سے متعلق سوالات و جوابات شروع ہوگئے۔
وقفہ سوالات کے بعد اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں بتانا چاہ رہا ہوں میری آواز دبانے کی کوشش کی گئی تو کوئی ایک بھی بات نہیں کر سکے گا، مچھلی بازار بند کروائیں۔
اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے احتجاج شروع کردیا۔ علی خورشیدی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اراکین یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ حکومت میں ہیں، یہ اسمبلی ہے جمعہ بازار نہیں ہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ کراچی اس وقت کربلا کا منظر پیش کررہا ہے، یہاں کے شہری پیاسے ہیں، میں خود دو دن سے اپنے لیے ٹینکر منگوانا چاہ رہا ہوں مگر نہیں آرہا، ہم لوگ شام میں آفسز میں بیٹھتے ہیں تو لوگوں کا مجمع آجاتا ہے، گلشن اقبال اور اورنگی میں پانی نہیں ہے۔
وزیر قانون ضیا لنجار نے کہا کہ میرے اپوزیشن کے دوست پانی پر سیاست نہ کریں۔ کے فور منصوبہ چل رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے دوست وفاق کا حصہ ہیں۔ حکومت پانی کے معاملے پر سیریس ہے، کراچی میں پانی کی ترسیل ہورہی ہے۔ حکومت نے حب کینال کی ایک اور اسکیم ڈالی ہے۔ کوشش کی ہے اورنگی ٹائون میں پانی پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے مسائل ہیں، حکومت اپنا کام کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے کئی توجہ دلائو نوٹسز پانی کی معاملات پر آتے ہیں، پانی کی چوری کا بھی بڑا مسئلہ ہے، آپ بھی علاقے کے مسائل دیکھیں۔ کراچی میں پانی کی ترسیل کے لیے کے فور منصوبے کے علاوہ پانی پہنچانا ممکن نہیں ہے۔
جماعت اسلامی کے محمد فاروق نے توجہ دلائو نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے حلقے میں 36 انچ کی سیوریج لائن کی وجہ سے پوری آبادی تالاب بنی ہوئے ہے، لائن کا کام بہت سلو ہے اور عید قرباں بھی سر پر ہے، مساجد کے سامنے دو دو فٹ پانی کھڑا ہے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ اور سی ای او کو ہم سے بات کرنے اور ملاقات کا وقت نہیں ہے۔ اتنی تاخیر کیوں ہورہی ہے۔ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے جس پر کام ہورہا ہے جو جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert