ایم پی اے ثاقب چڈھراور ان کی اہلیہ اپنے وکیل کے ہمراہ مومنہ اقبال کیخلاف تفتیش کیلئے این سی سی آئی اے میں پیش ہوگئے


لاہور (قدرت روزنامہ) وکیل ایم پی اے محمد ثاقب چڈھرنے کہا ہے کہ خواتین کی عزت کرتے ہیں لیکن حقائق اور اپنا سچ ہر حال میں ثابت کریں گے،این سی سی آئی میں وقوعہ سے متعلقہ تمام ثبوتوں کی نشاندہی کردی ہے۔این سی سی آئی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل محمد ثاقب چڈھرنے بتایا کہ آج ہم نے این سی سی آئی میں اپنا بیان یکارڈ کرایا ہے، آج وقت مقررہ پر محمد ثاقب چڈھراور ان کی اہلیہ پیش ہوئے، ان دونوں کے خلاف درخواست آئی ہے۔
این سی سی آئی افسران نے چار گھنٹے پر محیط مفصل انکوائری کی ہے۔ابھی کیس کی تفتیش کے مراحل بڑی تفصیل سے آگے بڑھیں گے۔ این سی سی آئی میں درجنوں ثبوت پیش کئے ہیں جن کا فرانزک بھی ہوسکتا ہے، ہم نے ثابت تفتیش میں ثابت کیا کہ اصل وکٹم ہم ہیں، ہمارا مئوقف ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے، ہم نے ثابت کیا کہ بلیک میلر کون ہے اور کون مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے، یہ من گھڑت درخواست ہے۔
میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم ملک بھر کی تمام خواتین کی عزت کرتے ہیں، ہم خاتون کیخلاف کوئی ایسی چیز نہیں لانا چاہتے کہ جس سے کسی کا فائدہ یا نقصان ہو۔تلخ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنا سچ ہر حال میں سامنے لائیں گے۔ این سی سی آئی میں وقوعہ سے متعلقہ تمام ثبوتوں کی نشاندہی کردی ہے۔ دوسری جانب معروف اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کے ہونے والے شوہر حمزہ حبیب کے بیانات کے بعد اب اس ہائی پروفائل کیس میں ایک اور انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اداکارہ مومنہ اقبال کے وکیل نے اس کیس کے پسِ منظر، ماضی کے رشتوں کے ٹوٹنے کی وجوہات اور ثاقب چدھڑ کی جانب سے جاری مبینہ بلیک میلنگ اور انتقامی کارروائیوں کے الزامات عائد کردیئے۔
اداکارہ مومنہ اقبال کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مؤکلہ کو پچھلے کئی سالوں سے ایک سوچی سمجھی سازش اور ذاتی انا کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ مومنہ اقبال کی شادی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہوں، ماضی میں بھی ان کا ایک رشتہ طے پایا تھا جو ثاقب چدھڑ کی وجہ سے ٹوٹا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ماضی میں ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عوام، رشتہ داروں اور دوستوں میں پھیلانا شروع کیے، تو چوں کہ مومنہ ایک نامور اداکارہ ہیں اور ان کے لیے ان کی ساکھ سب سے اہم تھی، اس صورتحال سے وہ شدید پریشان ہوئیں، ان ناموافق حالات اور جھوٹے پروپیگنڈے کے باعث اس وقت جس شخص سے رشتہ طے پا رہا تھا، انہوں نے ایسے ماحول میں شادی کرنا مناسب نہ سمجھا۔
وکیل نے کہا کہ رشتہ ٹوٹنے کے باوجود مومنہ نے کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تھانے میں ثاقب کے خلاف کوئی درخواست نہیں دی، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ ایک اداکارہ ہونے کے ناطے ہمارے معاشرے میں اس بات کا غلط مطلب لیا جائے گا اور ان کے بہن بھائیوں کو زندگی بھر تکلیف اٹھانی پڑے گی، اصل تنازعہ اس وقت دوبارہ شروع ہوا جب مومنہ کی بزرگ والدہ نے اپنی بیٹی کو بسانے کے لیے ایک نیا رشتہ تلاش کیا اور معاملات تقریباً فائنل ہو گئے، جب ثاقب چدھڑ نے دیکھا کہ مومنہ کی شادی اب دوسری جگہ ہو رہی ہے، تو اس کی مردانہ انا نے یہ برداشت نہیں کیا اور وہ شدید انتقامی ہو گیا، ثاقب اور اس کی اہلیہ نے مل کر اس شخص سے رابطہ کیا جس سے مومنہ کا رشتہ ہو رہا تھا اور وہاں جا کر گھٹیا الزامات لگائے جس کے باعث وہ رشتہ ٹوٹ گیا۔
وکیل نے واضح کیا کہ اس پہلی شخصیت کا نام ابھی صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے، لیکن جیسے ہی وفاقی تحقیقاتی ادارے این سی سی آئی اے میں تفتیش کا دائرہ آگے بڑھے گا، وہاں اس شخصیت کا نام اور تمام ثبوت پیش کیے جائیں گے کہ کس طرح ثاقب اور اس کی بیوی نے سازش کے تحت وہ رشتہ تڑوایا، مومنہ اقبال نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ یہ معاملہ کسی طرح اچھے طریقے سے حل ہو جائے اور جان چھوٹ جائے، لیکن ایسا نہ ہوا۔

WhatsApp
Get Alert