چمن جلسہ: محمود خان اچکزئی کا آئینی بالادستی، مذاکرات اور خطے میں امن کے لیے بڑا بیان


چمن (قدرت روزنامہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر Mahmood Khan Achakzai نے چمن میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانے اور چلانے کا واحد راستہ آئین کی مکمل بالادستی ہے، جس کے تحت تمام ادارے آئینی حدود کے پابند ہوں اور منتخب پارلیمنٹ کو اصل طاقت کا سرچشمہ تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں پارلیمنٹ کے ذریعے طے ہونی چاہئیں، جبکہ صوبوں کو وسائل اور اختیارات میں مساوی حصہ دیا جائے تاکہ حقیقی ترقی ممکن ہو سکے۔
محمود خان اچکزئی نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو برادرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے لیے جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ضروری ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے ہمسایہ ممالک پر مشتمل کانفرنس بلائی جائے، جہاں تمام الزامات اور جوابات کھلے طور پر سنے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں جنگی پالیسی اپنائی گئی تو یہ پورا علاقہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے، اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
انہوں نے ڈیورنڈ لائن اور سرحدی پابندیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کے عوام ایک ہی قوم ہیں، اور تجارتی راستوں کی بندش سے معاشی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق سرحدی علاقوں میں فری ٹریڈ زون قائم کیے جائیں۔
جلسے میں انہوں نے افغان مہاجرین کے ساتھ سلوک پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ جب تک لوگوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے، خطے میں نفرتیں بڑھتی رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں تمام اقوام کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں اور وسائل پر مقامی لوگوں کا حق تسلیم کیا جائے۔
جلسے کے اختتام پر انہوں نے آئین کی بحالی، جمہوری نظام کی مضبوطی اور عوامی حقوق کے حق میں نعرے لگائے۔

WhatsApp
Get Alert