ملک بھر میں نایاب فلکیاتی منظر ‘بلیو مون’ کا نظارہ کیا گیا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)لاہور سمیت ملک بھر میں شہریوں نے اتوار کو رات کے وقت نایاب فلکیاتی منظر ’’بلیو مون‘‘ کا شان دار نظارہ کیا، صاف موسم کے باعث متعدد شہروں میں مکمل چاند واضح طور پر دکھائی دیا اور فلکیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد، خاندانوں اور فوٹوگرافی کے شوقین شہریوں نے اس منفرد منظر کو اپنے کیمروں میں محفوظ کیا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق مئی 2026 میں دوسری مرتبہ مکمل چاند نمودار ہوا جسے فلکیاتی اصطلاح میں بلیو مون کہا جاتا ہے، یہ ایک نسبتاً نایاب واقعہ ہے جو عموماً دو سے تین سال بعد دیکھنے میں آتا ہے۔
لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان اور دیگر شہروں میں شہریوں نے شام کے وقت چاند طلوع ہونے کے بعد اس کا مشاہدہ کیا، ماہرین کے مطابق شام ساڑھے سات بجے سے مشرقی افق پر چاند کا منظر زیادہ دلکش رہا جبکہ کئی علاقوں میں یہ رات بھر نمایاں طور پر دکھائی دیتا رہا۔
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسپیس سائنس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سید عامر محمود کے مطابق بلیو مون دراصل چاند کے رنگ کا نام نہیں بلکہ ایک فلکیاتی اصطلاح ہے، جب ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دو مکمل چاند آجائیں تو دوسرے مکمل چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے، مئی 2026 میں پہلا مکمل چاند یکم مئی جبکہ دوسرا مکمل چاند 31 مئی کو ظاہر ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ بلیو مون مائیکرو مون بھی تھا، یعنی چاند اپنے مدار میں زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر موجود تھا، اسی وجہ سے یہ معمول کے مکمل چاند کے مقابلے میں قدرے چھوٹا اور نسبتاً کم روشن دکھائی دیا۔
ماہرین کے مطابق چاند کی مختلف حالتوں اور فلکیاتی خصوصیات کے لیے مختلف اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، بلیو مون ایک ہی مہینے میں آنے والے دوسرے مکمل چاند کو کہا جاتا ہے، سپر مون زمین کے قریب ہونے کے باعث بڑا اور زیادہ روشن دکھائی دینے والا مکمل چاند ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مائیکرو مون زمین سے زیادہ فاصلے پر ہونے کے باعث نسبتاً چھوٹا دکھائی دیتا ہے جبکہ مکمل چاند گرہن کے دوران سرخی مائل دکھائی دینے والے چاند کو بلڈ مون کہا جاتا ہے۔
اسی طرح ہارویسٹ مون خزاں کے موسم میں نظر آنے والے مکمل چاند اور اسٹرابیری مون جون میں آنے والے مکمل چاند کے لیے استعمال ہونے والی روایتی اصطلاحات ہیں۔

WhatsApp
Get Alert