صوبے کے 17 اضلاع میں آف گرڈ پاور اسٹیشنز کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور ترسیل کے نظام میں بہتری کے لیے مختلف منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے اہم اجلاس بدھ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا ۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم سیکرٹری توانائی اسفندیار کاکڑ ، چیف کیسکو سید یوسف شاہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران محکمہ توانائی بلوچستان کی جانب سے صوبے کے دور دراز علاقوں میں بلا تعطل، پائیدار اور کم لاگت بجلی کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبے پیش کیے گئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کی وسیع جغرافیائی حدود اور بکھری ہوئی آبادی کے باعث روایتی طویل ٹرانسمیشن لائنوں اور پیچیدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نہ صرف مہنگا عمل ہے بلکہ متعدد علاقوں میں تکنیکی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر مقامی سطح پر بجلی پیدا کرنے کے لیے منی پاور اسٹیشنز اور آف گرڈ توانائی منصوبوں کو زیادہ مؤثر اور قابل عمل حل قرار دیا گیا اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی آزمائشی منصوبوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آنے کے بعد صوبے کے 17 اضلاع میں آف گرڈ پاور اسٹیشنز کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد ایسے علاقوں کو سستی اور قابل اعتماد بجلی فراہم کرنا ہے جو قومی گرڈ سے منسلک نہیں یا جہاں بجلی کی فراہمی مسلسل مسائل کا شکار ہے۔
اجلاس میں آن گرڈ اسٹیشنز سے منسلک علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ اس موقع پر منصوبوں پر تیز رفتار پیش رفت یقینی بنانے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ ٹیرف کے تعین، قانونی ضابطہ کار اور دیگر ریگولیٹری معاملات کے حوالے سے نیپرا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرتے ہوئے پیش رفت کو تیز کیا جائے تاکہ منصوبوں پر عملدرآمد میں کسی قسم کی رکاوٹ حائل نہ ہو۔


انہوں نے کہا کہ بجلی کی ترسیل میں بہتری کے لیے آن گرڈ اسٹیشنز پالیسی کو تمام متعلقہ اداروں کی مشاورت سے جلد حتمی شکل دی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کو سستی، پائیدار اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے لیے قابل عمل اور دیرپا منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور افتادہ علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے توانائی کے شعبے میں جدید، مقامی اور پائیدار حل اختیار کیے جا رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ توانائی کے نئے منصوبے نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات پوری کریں گے بلکہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں، روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کے ہر شہری کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات، جدید منصوبہ بندی اور متبادل توانائی ذرائع کے فروغ کے ذریعے بلوچستان کے دور دراز علاقوں کی دیرینہ محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے گا اور عوام کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

WhatsApp
Get Alert