فارم 47کی نام نہاد حکومت ناکام ہوچکی ہے، عبدالرحیم زیارتوال
بدامنی، دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، مہنگائی اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ حکومتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے، سردار حبیب الرحمن دومڑ شاہرگ، مانگی، زیارت، ہرنائی، زرغون ودیگر علاقوں میں ہونیوالے واقعات میں ملوث عناصر ریاست کی گرفت سے آزاد ہیں، کیمروں وڈرون کیمروں کی موجودگی میں یہ تمام واقعات ہوئے ہیں، اجلاس سے رہنماؤں کا خطاب

زیارت (قدرت روزنامہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ضلع زیارت ضلعی کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے تحصیل دفتر سنجاوی میں مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال کے زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں گزشتہ سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی گئی جس کی منظوری دیتے ہوئے پارٹی کو مزید فعال، منظم اور عوامی مسائل کے حل کے لیے متحرک بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سردار حبیب الرحمن دومڑ، ضلعی جنرل سیکرٹری عبداللطیف دومڑ سمیت ضلعی کمیٹی اور ایگزیکٹو کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس میں زیارت اور سنجاوی کو درپیش سنگین عوامی مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ ”فارم 47“ کی نام نہاد حکومت عوام کو روزگار، ریلیف اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ بدامنی، دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، مہنگائی اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ حکومتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔اجلاس میں گزشتہ روز شارگ کے علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے، جس میں سڑک پر ناکہ بندی کے دوران پانچ افراد کو شہید کیا گیا، اور مانگی کے مقام پر کوئلے سے بھرے ٹرکوں کو دن دہاڑے ایف سی چوکیوں کے درمیان نذرِ آتش کرنے کے ساتھ چار افراد کے اغوا کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے واقعات ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کررے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب پارٹی نے ان واقعات کے خلاف جمہوری اور آئینی طریقے سے آواز بلند کی تو ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پارٹی رہنماؤں پر بے بنیاد الزامات عائد کرکے جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی، جو قابلِ مذمت اور باعثِ شرم اقدام ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ ضلع زیارت ایک زرعی علاقہ ہے جہاں ہزاروں خاندانوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔ ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں نے کسانوں کو شدید مالی نقصانات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت زرعی ٹیکسوں کے ذریعے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ زرعی ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں اور کسانوں کو سبسڈی، کھاد، زرعی ادویات اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ معاشی بحران سے نکل سکیں۔اجلاس میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور ظالمانہ لوڈشیڈنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ واپڈا کی ناقص کارکردگی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ہفتوں تک بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے جبکہ شہری اور دیہی علاقوں میں ٹرانسفارمرز کی خرابی کے بعد بروقت مرمت یا تبدیلی نہ ہونے سے عوام مہینوں تک بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم رہتے ہیں۔اجلاس میں مزید کہا گیا کہ ضلع زیارت میں محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کی کارکردگی انتہائی تشویشناک ہے اور دونوں شعبے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ عوام کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔اجلاس نے متنبہ کیا کہ اگر ان سنگین عوامی مسائل کو فوری اور سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی عوام کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ وقت پر عائد ہوگی۔
