حکومت نے صرف 11 ماہ میں پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام کی جیبوں سے 1430 ارب روپے نکلوا لیے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کی صورتحال کے دوران حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے اربوں روپے کے اضافی محصولات وصول کرلیے۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، اور جولائی سے مئی کے دوران حکومت نے مجموعی طور پر 1 ہزار 430 ارب روپے سے زائد کی رقم پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے اکٹھی کرلی، 1 ہزار 468 ارب روپے کا مقررہ ہدف پورا ہونے کے بعد مزید تقریباً 1 سو ارب روپے اضافی جمع کیے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عوام سے 373 ارب روپے سے زائد کی پٹرولیم لیوی وصول کی، جولائی سے مئی تک کی 1 ہزار 430 ارب روپے کی مجموعی کلیکشن گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 6 سو ارب روپے کے لگ بھگ زیادہ ہے، رواں مالی سال کے لیے پی ڈی ایل کا کل ہدف 14 سو 68 ارب روپے مختص تھا، تاہم مالی سال کے اختتام تک حکومت اس ہدف سے کہیں زیادہ رقم اکٹھی کر کے نیا ریکارڈ قائم کرے گی۔
معلوم ہوا ہے کہ رواں مالی سال کے مختلف مہینوں میں جمع ہونے والی لیوی کی مد میں جولائی میں 157 ارب روپے، اگست میں 103 ارب 46 کروڑ روپے، ستمبر میں 112 ارب 85 کروڑ روپے، اکتوبر میں 143 ارب 48 کروڑ روپے، نومبر میں 148 ارب 36 کروڑ روپے، دسمبر میں 162 ارب 46 کروڑ روپے، جنوری میں 108 ارب 76 کروڑ روپے، فروری میں 120 ارب 39 کروڑ روپے، مارچ میں 139 ارب 48 کروڑ روپے، اپریل میں 146 ارب روپے اور گزشتہ ماہ مئی میں ساڑھے 87 ارب روپے جمع کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی سے مئی تک کے عرصے میںدرآمدی پٹرول اور ڈیزل پر لیوی کے ذریعے 686 ارب 52 کروڑ روپے سے زائد اکٹھے کیے گئے، کروڈ آئل کو مقامی طور پر ریفائن کرنے سے پٹرول اور ڈیزل پر 753 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اکٹھی ہوئی، گزشتہ ماہ مئی کے دوران درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر ساڑھے 50 ارب روپے اور کروڈ آئل کو ریفائن کرنے سے 37 ارب روپے کی پی ڈی ایل اکٹھی ہوئی تھی۔
بتایا جارہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں اس ریکارڈ اضافے کی ایک بڑی وجہ ایرانی پٹرول کی اسمگلنگ پر لگائی جانے والی سخت پابندی ہے، ایف بی آر نے کارروائی کرتے ہوئے 1576 غیر قانونی پٹرول پمپس کو پکڑا اور انہیں باقاعدہ سیل کیا، 1442 پمپس کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ملک میں پٹرول کی اسمگلنگ کم ہوئی اور قانونی پٹرول کی فروخت بڑھنے سے حکومت کی لیوی وصولیاں مزید بڑھ گئیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ فنانس بل کے مطابق حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے سامنے پٹرولیم لیوی کے سخت اہداف رکھے ہیں، آئی ایم ایف نے رواں سال کے لیے 1 ہزار 546 ارب روپے کی پی ڈی ایل اکٹھی ہونے کا تخمینہ لگایا تھا، آئی ایم ایف نے آنے والے نئے مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی کا تخمینہ 1 ہزار 727 ارب روپے لگایا ہے، فنانس بل کی روشنی میں حکومت پاکستان آئندہ مالی سال میں رواں سال کی نسبت 260 ارب روپے اضافی پٹرولیم لیوی اکٹھی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
