قلعہ عبداللہ میں بڑھتی بدامنی پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی تشویش، فوری اقدامات کا مطالبہ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی مسلسل خراب ہوتی صورتحال پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دس روز کے دوران ضلع قلعہ عبداللہ میں 12 افراد کا ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننا حکومتی اور ریاستی اداروں کی ناکامی، کمزور حکمت عملی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں غفلت کا واضح ثبوت ہے۔
پارٹی کے مطابق مسلسل ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، مسلح حملوں اور دیگر جرائم نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ ضلع بھر میں خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کی فضا قائم ہے۔
بیان میں قلعہ عبداللہ، چمن، گلستان، درود ملازئی اور دیگر پشتون علاقوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عوام کے تحفظ کے ذمہ دار ادارے صورتحال پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے درود ملازئی کے علاقے سپیرہ راغہ میں غازی انٹرپرائزز کے کیمپ پر حملے، بھاری مشینری کو نذر آتش کرنے، املاک کو نقصان پہنچانے اور متعدد افراد کے اغوا کے واقعے کی بھی شدید مذمت کی۔ بیان کے مطابق ایسے واقعات ترقیاتی منصوبوں، مقامی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کو متاثر کر رہے ہیں۔
پارٹی نے کہا کہ تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدور، کسان، طلبہ، سرکاری ملازمین اور عام شہری روزانہ خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ جب مختلف علاقوں میں سیکیورٹی چیک پوسٹیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سرکاری مشینری موجود ہے تو پھر ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور مسلح حملوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔
پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ضلع قلعہ عبداللہ میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے تمام واقعات کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں۔
بیان کے اختتام پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ہر قسم کی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، تشدد اور عوامی و قومی وسائل کو نقصان پہنچانے کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ قلعہ عبداللہ سمیت تمام پشتون علاقوں میں پائیدار امن کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے فوری، سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں۔
