غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عوام کے ساتھ ظلم اور امتیازی سلوک ہے: پشتونخوامیپ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عوام کے ساتھ ظلم اور امتیازی سلوک کے سوا کچھ نہیں، جس کا فوری نوٹس لینا کیسکو کے اعلیٰ حکام اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سبی، کوئٹہ، پشین، زیارت، ہرنائی، دکی، موسیٰ خیل، لورالائی، ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، چمن اور دیگر اضلاع و علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور مسلسل بجلی کی بندش نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ تمام علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ دن رات جاری ہے، جس کے باعث لاکھوں صارفین شدید ذہنی کوفت، پریشانی اور مشکلات کا شکار ہیں۔ گھریلو امور، کاروباری سرگرمیاں، طلبہ کی تعلیم اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، تاہم متعلقہ حکام صورتحال پر قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
بیان کے مطابق بعض علاقوں میں جان بوجھ کر فیڈرز پر طویل اور غیر اعلانیہ بجلی بندش معمول بن چکی ہے۔ ٹرانسفارمرز کی خرابیوں کو بروقت دور نہیں کیا جا رہا جبکہ پرانے ٹرانسفارمرز کی جگہ نئے نصب نہیں کیے جا رہے۔ مختلف علاقوں میں ٹی آف کے ذریعے ترسیلی نظام میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں، اور اپنی نااہلی و ریکوری میں ناکامی چھپانے کے لیے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ شکایات درج کرانے کے لیے فراہم کردہ نمبرز غیر فعال ہیں جبکہ متعلقہ دفاتر میں عوامی مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے کوئی ذمہ دار اہلکار موجود نہیں ہوتا، جس کے باعث شہری دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چند مخصوص وی آئی پی علاقوں کو استثنیٰ حاصل ہے جبکہ کوئٹہ کی لاکھوں آبادی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا شکار ہے، جو کھلی ناانصافی اور امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ عوام بھاری بجلی بل ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور کیسکو فوری طور پر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے، تمام خراب ٹرانسفارمرز اور تکنیکی مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے، شکایتی نظام کو فعال بنایا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
