ندا محمد سنگر اور زوہیب خان کبزئی کی گرفتاری، بجلی روڈ تھانے میں ناروا اور غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

سیاسی کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں ہراساں کرنا اور تشدد کا نشانہ بنانا بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، آئی جی پولیس نوٹس لیں بصورت دیگر دفاتر کے سامنے احتجاج کریں گے، پریس ریلیز


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں پارٹی کے صوبائی آفس سیکرٹری ندا محمد سنگر اور پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پی ایس او) کے صوبائی آفس سیکرٹری زوہیب خان کبزئی کی گرفتاری، بجلی روڈ تھانے میں ان کے ساتھ مبینہ ناروا، توہین آمیز اور غیر انسانی سلوک، تشدد اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ندا محمد سنگر اور زوہیب خان کبزئی سیاسی کارکن ہیں، جنہیں ایک سیاسی نوعیت کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر مکمل طور پر بے بنیاد، غیر قانونی، حقائق کے منافی اور سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ پارٹی کے مطابق سیاسی کارکنوں کو جھوٹے اور من گھڑت مقدمات میں ملوث کرکے ہراساں کرنا جمہوری اقدار، سیاسی آزادیوں اور آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ گرفتاری کے بعد دونوں کارکنوں کو بجلی روڈ تھانے میں مبینہ طور پر جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اہلِ خانہ، وکلاء اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر غیر ضروری پابندیاں عائد کی گئیں، جبکہ انہیں کھانا اور پینے کا پانی فراہم نہ کرنے جیسا غیر انسانی رویہ بھی اختیار کیا گیا۔ بیان کے مطابق اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف انسانی وقار کی توہین ہے بلکہ ملکی قوانین، جیل قواعد و ضوابط اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سیاسی کارکنوں کے ساتھ اس قسم کا انتقامی اور غیر انسانی طرزِ عمل کسی مہذب اور جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اختلافِ رائے رکھنے والے افراد کو تشدد، ہراسانی اور غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے خاموش کرانے کی کوششیں جمہوری روایات کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ ایسے اقدامات سے نہ صرف ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ سیاسی ماحول میں مزید بے چینی اور اضطراب بھی پیدا ہوتا ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ اگر پولیس کی جانب سے یہی رویہ برقرار رہا اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو پارٹی اپنے کارکنوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کا آئینی، قانونی اور جمہوری حق محفوظ رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں انسپکٹر جنرل پولیس، ڈی آئی جی آفس اور دیگر متعلقہ حکام کے دفاتر کے سامنے احتجاجی مظاہروں سمیت ہر جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا۔
پریس ریلیز میں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ندا محمد سنگر اور زوہیب خان کبزئی کے ساتھ مبینہ تشدد، ملاقاتوں پر پابندی، کھانے اور پانی کی فراہمی میں رکاوٹ اور دیگر الزامات کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرائیں۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ اگر کسی بھی اہلکار کی غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا غیر قانونی اقدامات ثابت ہوں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسی سیاسی کارکن یا عام شہری کو اس قسم کے غیر قانونی، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بیان کے اختتام پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سیاسی کارکنوں، طلبہ رہنماؤں اور شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی اور ہر قسم کے جبر، ناانصافی اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert