کتنے میں مل رہا ہے امریکی ڈالر؟ ریال و درہم کے ریٹس کیا؟ جانیں غیر ملکی کرنسی کے ریٹس

کراچی (قدرت روزنامہ)ملک کی اوپن مارکیٹ اور انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کے روز غیر ملکی کرنسیوں کے تازہ نرخ جاری کر دئیے گئے ہیں جن کے مطابق امریکی ڈالر معمولی اتار چڑھاؤ کے ساتھ مستحکم سطح پر برقرار رہا جبکہ یورو، برطانوی پاؤنڈ اور خلیجی کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں استحکام دیکھا گیا۔
اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری 279.05 روپے اور فروخت 279.45 روپے میں کی جا رہی ہے۔
برطانوی پاؤنڈ 373.90 روپے میں خریدا اور 377.45 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ یورو کی خریداری کی قیمت 323 روپے اور فروخت 327.75 روپے مقرر کی گئی ہے۔
خلیجی کرنسیوں میں سعودی ریال 74.30 روپے میں خریدا اور 74.90 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 76 روپے کی خریداری اور 76.75 روپے کی فروخت پر دستیاب ہے۔
دیگر اہم کرنسیوں میں آسٹریلوی ڈالر کی خریداری 194.84 روپے اور فروخت 198.75 روپے، کینیڈین ڈالر کی خریداری 197.97 روپے اور فروخت 203.25 روپے ریکارڈ کی گئی۔
چینی یوآن 38.05 روپے میں خریدا جا رہا ہے جبکہ اس کی فروخت 38.80 روپے پر ہو رہی ہے۔ جاپانی ین کی خریداری 1.7264 روپے اور فروخت 1.8256 روپے مقرر کی گئی ہے۔
دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری 278.20 روپے اور فروخت 278.70 روپے رہی۔ برطانوی پاؤنڈ 372.81 روپے کی خریداری اور 373.48 روپے کی فروخت پر ٹریڈ ہوا جبکہ یورو 322.24 روپے میں خریدا اور 322.82 روپے میں فروخت کیا گیا۔
انٹربینک میں سعودی ریال کی خریداری 74.14 روپے اور فروخت 74.27 روپے رہی جبکہ اماراتی درہم کے نرخ بالترتیب 75 روپے کے قریب برقرار رہے۔ آسٹریلوی ڈالر 196.38 روپے میں خریدا اور 196.73 روپے میں فروخت کیا گیا جبکہ کینیڈین ڈالر کی خرید و فروخت 198.69 روپے اور 199.05 روپے رہی۔
اسی طرح چینی یوآن 41.17 روپے کی خریداری اور 41.24 روپے کی فروخت پر ٹریڈ ہوا۔ جاپانی ین 1.7363 روپے میں خریدا اور 1.7394 روپے میں فروخت کیا گیا۔ سوئس فرانک 349.85 روپے کی خریداری اور 350.48 روپے کی فروخت پر رہا جبکہ سنگاپور ڈالر 216.82 روپے میں خریدا اور 217.21 روپے میں فروخت کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی رجحانات، درآمدی ادائیگیوں کی طلب اور بین الاقوامی معاشی پیش رفت کرنسی مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلوں اور عالمی معاشی اشاریوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
