بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے لیے 1 کھرب 89 ارب سے زائد حجم کا بجٹ پیش

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان کا آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے 1 کھرب 89 ارب سے زائد حجم کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا گیا، بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب 80 کروڑ 88 لاکھ روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے 291 ارب 55 کروڑ 2 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، آئندہ مالی سال کا بجٹ 45 ارب 56 کروڑ 82 لاکھ روپے سرپلس ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ملازمین کی تنخواہوں میں وفاق کی طرز پر 7 فیصد اضافہ، مجموعی طور پر 5000 نئی آسامیاں مختلف سرکاری محکموں میں تخلیق کی جائیں گی۔
بدھ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان کا آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا گیا۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی اخراجات 1089 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے رہیں گے، جن میں غیر ترقیاتی اخراجات 797 ارب 80 کروڑ 88 لاکھ روپے اور ترقیاتی اخراجات 291 ارب 55 کروڑ 2 لاکھ روپے شامل ہیں۔
ترقیاتی پروگرام کے تحت صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے 206 ارب 60 کروڑ 93 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 40 ارب 38 کروڑ 36 لاکھ روپے اور وفاقی فنڈڈ منصوبوں کے لیے 44 ارب 55 کروڑ 73 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی محصولات (Receipts Revenue) کا تخمینہ 1019 ارب 3 کروڑ 30 لاکھ روپے لگایا گیا ہے، جن میں وفاقی حکومت سے وصولیاں 834 ارب 44 کروڑ 69 لاکھ روپے ہوں گی۔ این ایف سی کے قابل تقسیم محاصل (Pool Divisible) سے بلوچستان کا حصہ 771 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد مقرر کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے اپنے ذرائع آمدن میں نمایاں اضافے کا ہدف مقرر کرتے ہوئے مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی وصولیوں کا تخمینہ 170 ارب 9 کروڑ 33 لاکھ روپے لگایا ہے، جن میں صوبائی ٹیکس آمدن 72 ارب 41 کروڑ روپے اور غیر ٹیکس آمدن 63 ارب 68 کروڑ 33 لاکھ روپے شامل ہے، جبکہ لیز ایکسٹینشن بونس کی مد میں 34 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شعبہ جاتی اخراجات میں تعلیم کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے، جہاں 157 ارب 28 کروڑ 86 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صحت کے لیے 73 ارب 99 کروڑ 19 لاکھ روپے، امن و امان کے لیے 107 ارب 99 کروڑ 20 لاکھ روپے، اقتصادی امور کے لیے 81 ارب 83 کروڑ 26 لاکھ روپے اور ہاؤسنگ و کمیونٹی سہولیات کے لیے 55 ارب 5 کروڑ 78 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں سرمایہ جاتی وصولیوں (Receipts Capital) کا تخمینہ 85 ارب 28 کروڑ 42 لاکھ روپے لگایا گیا ہے جبکہ بجٹ سال کے اختتام پر 45 ارب 56 کروڑ 82 لاکھ روپے کے سرپلس کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مختلف نوعیت کے اہم فلاحی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن میں سے ہر ضلع میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی، پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف، نئی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکس معاف، پبلک جائیداد کی بیمہ پر سیلز ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔ بجٹ میں تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس 0% کر دیا ہے، ہوٹل ٹیکس کا 1965 کا قانون اور ہوٹلوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے جائیداد کی منتقلی پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس (Capital Value Tax) اور سٹامپ ڈیوٹی (Stamp Duty) کی شرح 2% سے کم کر کے 1% کر دی ہے۔
وزیرخزانہ بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف شعبوں میں عوام کیلئے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان صوبائی حکومت نے مشکل مالی حالات کے باوجود وفاق کے طرز پر صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7% اضافہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت بلوچستان کے ہر ضلع میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کرنے جا رہی ہے (Comprehensive District Livelihood Plan) جس سے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور ان پلانز کے ذریعے ہر ضلع میں موجود مسائل اور رکاوٹوں کا تکنیکی احاطہ کیا جائے گا اور سماجی و معاشی (Socio-Economic) اقدامات کے ذریعے ہر ضلع کی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ ٹیکس فری بجٹ ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف کیا گیا ہے، نئی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکس معاف کیا گیا ہے، پبلک جائیداد کی بیمہ پر سیلز ٹیکس معاف کیا گیا ہے، صوبے میں صنعتی ترقی کے لیے ایکسپورٹ پراسسنگ زون میں بیرونی انوسٹمنٹ پر تمام صوبائی ٹیکسوں کو معاف کیا گیا ہے، تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس 0% کر دیا ہے، ہوٹل ٹیکس کا 1965 کا قانون اور ہوٹلوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے جائیداد کی منتقلی پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس اور سٹامپ ڈیوٹی کی شرح 2% سے کم کر کے 1% کر دی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کی مائیکرو فنانس سکیم کے تحت 1 بلین بلا سود قرضے کی فراہمی اور عوامی فلاح کے لیے عوامی انڈومنٹ فنڈ کے لیے 3.1 بلین مختص کیے گئے ہیں۔
بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈ کے ذریعے مستحق طلباء و طالبات کی معاونت جاری رکھنے کے لیے 2.82 بلین مختص ہیں۔
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے 1.5 بلین کا مزید اضافہ کیا گیا ہے۔
نوجوانوں میں ڈیجیٹل سکلز اجاگر کرنے کے لیے Digibizz کے لیے 1.7 بلین مختص کیے گئے ہیں۔
غریب گھرانوں کی رہائش کے لیے لو کاسٹ ہاؤسنگ پراجیکٹ کی مد میں 2 بلین رکھے گئے ہیں۔
500 الیکٹرک وہیل چیئرز (Electric Wheel Chairs) کی خرید و تقسیم کے لیے 200 ملین مختص ہیں۔
عوام کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے گرین اور پنک بسز کے فیڈر روٹس اور بس سٹاپس میں توسیع۔ اسی کے ساتھ ساتھ پیپلز ٹرین سروس (People’s Train Service) اور الیکٹرک بسز (Electric Buses) کا بھی آغاز کیا جائے گا۔
خواتین کی معاشی خودمختاری اور Women Entrepreneurs کو فروغ دینے کے لیے خواتین کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی۔
صوبے کے مختلف اضلاع میں انکیوبیشن سنٹرز (Incubation Centers) اور منی سپورٹس کمپلیکس (Mini Sports Complex) کے قیام کے لیے 200 ملین مختص۔
عوام کے لیے اسپیشل سپورٹ پروگرام کے لیے 600 ملین مختص ہیں۔
شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ کے لیے 54 ملین مختص ہیں۔
صوبے کے تمام یونین کونسلز میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے جامع منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
تمام اضلاع میں پھل، سبزی، غلہ، مویشی منڈیوں اور بس ٹرمینلز کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے Grievance Redressal System قائم کیا جائے گا۔
آئندہ مالی سال 2026-27 میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مجموعی طور پر 5000 نئی آسامیاں مختلف سرکاری محکموں میں تخلیق کی جائیں گی۔
یہ مکمل خبر ہے جو ویب سائٹ پر شائع ہوئی تھی۔ اگر کوئی حصہ چھوٹا لگے تو بتائیں!
