بلوچستان : لائسنس کمپیوٹرائزڈ، تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی اور ڈیجیٹل ریڈیو سسٹم کا اعلان

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس کی کارکردگی کو مزید موثر، شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعدد اہم اصلاحات اور منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف ٹیکس نظام کو جدید بنانا اور ریونیو میں اضافہ کرنا ہے بلکہ گاڑیوں کی چوری، فراڈ، منشیات کی روک تھام اور دہشت گردی جیسے جرائم کے سدباب میں بھی مدد فراہم کرنا ہے بجٹ دستاویزات کے مطابق محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس صوبے میں ٹیکس نظام کے نفاذ، محصولات میں اضافے اور منشیات کے خلاف کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، اسی لیے اس محکمے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متعدد انقلابی اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں حکومت بلوچستان نے تمام گاڑیوں کے لائسنسوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت موجودہ پرانے اور دستی نظام کے تحت جاری کیے گئے لائسنس مرحلہ وار ختم کرکے انہیں جدید آن لائن کمپیوٹرائزڈ لائسنسوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف تمام گاڑیوں اور مالکان کا مکمل اور درست ریکارڈ دستیاب ہوگا بلکہ جعلسازی، غیر قانونی منتقلی اور جعلی دستاویزات کے استعمال کی روک تھام بھی ممکن ہو سکے گی بجٹ دستاویزات کے مطابق گاڑیوں کے مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ کی بدولت موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی چوری کی وارداتوں میں کمی آئے گی، جبکہ جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے دہشت گردی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی نشاندہی اور ان کا سراغ لگانا بھی آسان ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید نظام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔بلوچستان حکومت نے ایک اور اہم اقدام کے تحت محکمہ ایکسائز میں تھرڈ پارٹی انشورنس کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت کسی بھی ٹریفک حادثے کی صورت میں متاثرہ فریق کو پہنچنے والے مالی نقصان کا ازالہ انشورنس کمپنی کے ذریعے کیا جائے گا، جس سے متاثرین کو فوری مالی تحفظ فراہم ہوگا اور عدالتوں میں طویل قانونی تنازعات میں بھی کمی آئے گی حکام کے مطابق اس اقدام سے حادثات کے متاثرین کو بروقت معاوضے کی فراہمی ممکن ہوگی، جبکہ شہریوں کے درمیان مالی تنازعات اور جھگڑوں میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ سے ٹریفک نظام میں مزید نظم و ضبط پیدا ہوگا اسی طرح بلوچستان میں گاڑیوں کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کے ساتھ پرسنلائزڈ یا وینیٹی نمبر پلیٹس (Vanity Plates) متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت شہری اپنی پسند کے مخصوص نمبروں والی پلیٹس حاصل کر سکیں گے، جبکہ بائیومیٹرک تصدیق کی وجہ سے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ملکیت کا ریکارڈ مزید محفوظ اور شفاف بنایا جا سکے گا۔ حکومت بلوچستان ریونیو میں اضافے اور ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ ان اقدامات میں پراپرٹی ٹیکس کی آٹومیشن، جدید ڈیجیٹل سسٹم کا نفاذ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے مثر حکمت عملی شامل ہے۔ حکام کے مطابق ان اصلاحات سے محصولات میں اضافہ ہوگا اور ٹیکس وصولی کے نظام میں شفافیت اور آسانی پیدا ہوگی بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران ڈیجیٹل ریڈیو سسٹم منصوبے کے لیے 101 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت دو طرفہ ڈیجیٹل ریڈیو کمیونیکیشن سسٹم کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ مختلف سرکاری محکموں اور فیلڈ دفاتر کے درمیان رابطوں کو تیز، محفوظ اور مثر بنایا جا سکے۔اس منصوبے کے تحت جدید ریڈیو ٹاورز اور موبائل اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، جن کے ذریعے صوبے کے مختلف علاقوں میں سرکاری دفاتر، فیلڈ یونٹس اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ نظام ہنگامی صورتحال، قدرتی آفات اور دیگر اہم مواقع پر فوری معلومات کی ترسیل میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
