بلوچستان دو دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے نہ ریاست مذاکرات چاہتی ہے اور نہ سرمچار ،کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کثیر الجہتی حکمت عملی بنائی ، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن اسمبلی ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ امریکہ ایران جنگ کے بعددنیا کی مجموعی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اس جنگ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی نے پہلی بار جنگ کے شعلے بجھانے کا درست کام کیا ۔انہوں نے کہا کہ 1973ء کا آئین کہتا ہے کہ پاکستان وفاقی جمہوری اسلامی ملک ہوگاموجودہ دور میںجمہوریت اور وفاق سے کوئی تعلق نہیں عوام کو کوئی اہمیت حاصل نہیں وفاق ،صوبے ،لوکل باڈیز غائب ہیں ملک میں صرف اسٹیبلشمنٹ ہے پارلیمنٹ کی حیثیت ختم کردی گئی ہے عدلیہ مقید ہے میڈیا کا برا حال ہے آئین وینٹی لیٹر پر ہے وہ مظالم کئے جارہے ہیں جو آئین کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوئے اب شوشا چھوڑا جارہا ہے کہ نئے صوبے بنائیں گے اور 18ویں ترمیم ختم کریں گے اور این ایف سی ایوارڈ سے وفاق کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ اگر صوبے بنانے ہیں تو نیپ کے فارمولے پر بنائیں ہم جبری تقسیم نہیں مانیں گے اور نہ ہی 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے دیں گے اگر آئین کو چھیڑا گیا تو کیاپہلے کم فسادات ہیں جو مزید پیدا کئے جارہے ہیںسی سی آئی کا پندرہ ماہ سے کوئی اجلاس نہیں ہواوفاق نے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے صحت ،تعلیم کے شعبوں میں فنڈز رکھے ہیںاگر وفاق آئین نہیں مان رہا تو ہم نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ عوام کے حق حاکمیت کو تسلیم کرنا ہے جسے عوام منتخب کریں اسے حکمرانی کا حق د یا جائے روز بروز حالات بدترہورہے ہیں عوام سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کو مذاق بنادیا گیا ہے اور وہ ریاست سے دور ہورہے ہیں ہمارے وسائل لوٹ کر ہمیں ہی طعنہ دیاجارہا ہے کہ ہم خسارے میں ہیں بلوچستان کے ساحل و وسائل پر ہمیں اختیار دیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے فشریزکی مدمیں ساڑھے 5ارب ڈالر برآمدات کی جاتی ہیں پورٹ پر ہرپندرہ دن بعد ایک جہاز آئے تواسکا اڑھائی لاکھ کرایہ کراچی میں جاتا ہے تمام صنعتوں کے اکاونٹس کیوں یہاں نہیں کھولے جاتے تاکہ سب کو معلوم ہو کہ بلوچستان معیشت میں کتنا حصہ ڈال رہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ صوبہ دو دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے نہ ریاست مذاکرات چاہتی ہے اور نہ سرمچار ،کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کثیر الجہتی حکمت عملی بنائیں کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم یہاں صنعتیں بنائیں سی پیک منصوبے کے تحت سڑکیں بنیں لیکن ایک بھی انڈسٹریل زون نہیں بناوفاق 25سال سے کچھی کینال منصوبہ مکمل نہیں کر رہا ہے پٹ فیڈر میں 7ہزارکی بجائے 3ہزار کیوسک پانی ملنے سے زراعت تباہ ہے جہاں پینے کا پانی نہ ہو وہاں زراعت کیسے ہوگی ۔انہوںنے کہا کہ فشریز ،لائیو سٹاک ،زراعت سمیت دیگر شعبوں میں حکمت عملی اپناکر بہتری لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کامسئلہ اہم ہے اس ایوان میں قانون سازی کرکے ہمیں کہا گیا کہ اس سے مسئلہ حل ہوگا وزیراعلیٰ اس مسئلے کو حل کریں ماورائے آئین قتل ہورہے ہیں تربت،پنجگور میں کوئی دن ایسا نہیں کہ مختلف الزامات لگاکر لاشیں نہ گرائی جائیں آج سڑکیں محفوظ نہیں ہم گھروں کو نہیں جاسکتے تاجروں کی گاڑیاں جلائی جارہی ہیںسیاسی کی بجائے صوبے کو اسٹریٹجک طریقے سے چلایا جارہا ہے کیا یہ ایوان صوبے کونہیں چلاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو حق رائے دہی دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیر کو اپنی شہ رگ کہہ کرپانچ جنگیں لڑیں لیکن آج وہاں کیا ہورہا ہے جو نعرے لگ رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاق نے ہماری تجویز کردہ ایک بھی اسکیم بجٹ میں شامل نہیں کی جہاں امن وامان خراب ہے وہاں پیسے رکھ دیئے گئے ہیں تاکہ وہ خرچ نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ وفاق جو کھیل کھیل رہا ہے اب وہ نہیں چلے گا این ایف سی کیلئے آئینی فریم ورک میں تبدیلی کی ضرورت تھی جس میں پیپلزپارٹی رکاوٹ بنی بعد میں کہا گیا کہ چندہ کریں اور فنڈز کاٹے گئے وفاق اپنی شہ خرچیاں ختم کرے ۔ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کو گڈگورننس چاہئے جس کیلئے طاقت اور اختیارہونا ضروری ہے صوبے میں امن ،احتساب ،کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور پراثر حکمرانی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ،ووزیر صحت کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہماری تجاویز پرکیتھ لیب دیا جھالاوان ،مکران ،لورالائی میڈیکل کالجز کے کنٹریکٹ ڈاکٹرز چھ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گرفتار کئے گئے 63ملازمین کو چھوڑا جائے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا بل منظور کیا جائے ڈپٹی کمشنرز کو جو 40ارب روپے سے نوازا گیا ہے مشکل ہے کہ ڈپٹی کمشنرز وہ ہمیں دکھائیں بھی کمیٹی میں منتخب نمائندوں کو رکھا گیا ہے مگر عوامی نمائندوں کی حیثیت برقرار رکھنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی وفاقی اوربلوچستان حکومت کے بجٹ کو مسترد کرتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert