ایرانی وزارت خارجہ کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی تردید


تہران (قدرت روزنامہ)ایرانی وزارت خارجہ کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی تردید۔ تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دیے جانے کے بعد ایرانی وزارت خارجہ نے تردیدی بیان جاری کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کی خبریں درست نہیں، تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے۔
اس سے قبل نیویارک پوسٹ کی رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا کہ ایران نے جمعہ کے روز جوہری مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کے بجائے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا۔ اس اقدام کی وجہ اسرائیل کا جنوبی لبنان سے اپنی افواج کو نکالنے سے انکار اور خطے میں امریکی افواج کی مسلسل موجودگی کو قرار دیا گیا ہے۔ سمندری ریڈیو چینلز پر جاری کردہ ایک بیان میں، پاسدارانِ انقلابِ نے کہا کہ امریکہ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز دستخط کیے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا: “چونکہ اسرائیل کا لبنان سے انخلاء، بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ، اور خلیج فارس اور خطے سے امریکی دہشت گرد افواج کا انخلاء امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی اہم ترین شرائط میں شامل ہیں، اس لیے آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک کہ یہ شرائط پوری نہیں ہو جاتیں۔ تمام بحری جہازوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور حفاظت کی خاطر آبنائے ہرمز کے قریب نہ آئیں۔
کوئی بھی بحری جہاز جس نے اس ہدایت کی خلاف ورزی کی، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ پاسداران انقلاب کے اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد، ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے، باوجود اس کے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ یہودی ریاست کی افواج دہشت گردوں کا شکار کرنا جاری رکھیں گی۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہاکہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کا پابند ہوں اور مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ا یرانی پارلیمان کے اسپیکر کے بقول صدر مسعود پزیشکیان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر امریکا غیر معمولی یا اضافی شرائط عائد کرنے کی کوشش کرے گا تو انھیں قبول نہیں کیا جائے گا۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ اگر دوسرا فریق معاہدے سے انحراف کرتا ہے یا غیر ضروری مطالبات کرتا ہے تو ایران بھرپور اور تباہ کن ردعمل دینے میں کوئی تامل نہیں کرے گا۔ انھوں نے حالیہ ایران۔امریکہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران پہلے بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکا ہے اور اگر مخالف فریق نے دوبارہ وہی راستہ اختیار کیا تو اسے پہلے سے زیادہ سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

WhatsApp
Get Alert