پاکستان کی فوج ہماری فوج، پارلیمنٹ کی طاقت اور جمہوری فیڈریشن کے لیے غیر مشروط تعاون کریں گے، محمود خان اچکزئی

آج کا دن اختلافات کا نہیں، ہم جاہل نہیں کہ ملکی مفادات کو نہ سمجھیں، نکالے گئے رکن اسمبلی کو واپس بلایا جائے، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا خطاب


اسلام آباد (ڈیلی قدرت کوئٹہ) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن اختلافات اُٹھانے یا ایک دوسرے کی طرف انگشت نمائی کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر شدید دُکھ ہوتا ہے جب کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ ہم ملکی مفادات کو نہیں جانتے؛ ہم بہت کمزور اور فاتر العقل ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن اتنے جاہل نہیں کہ ہم پاکستان کے مفادات کو نہ سمجھ سکیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان کی فوج ہماری فوج ہے، پاکستان کی ترقی ہماری ترقی ہے، اور پاکستان کی پارلیمنٹ ہماری پارلیمنٹ ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس بارے میں پتہ نہیں کیوں ہمیں اتنا جاہل سمجھا گیا کہ خدانخواستہ آج کے دن اُٹھ کر ہم پتہ نہیں کیا فتویٰ جاری کریں گے یا کیسی تقاریر کریں گے۔ انہوں نے قائدِ ایوان (وزیراعظم) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کرسی پریمئر کی ہے، وہ فیڈریشن میں چیف ایگزیکٹیو ہوتا ہے اور اس پارلیمنٹ کی طاقت پر یہ آدمی یہاں بول رہا ہے، اس لیے آپ گورننس کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کا دن اچھا دن تھا اور قرارداد (ریزولوشن) بھی پاس ہوگا۔
اپنے خطاب کے دوران محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف بھائی، یہ اسپیکر ہمارا ہے، آپ کے رولز ہمیں بتاتے ہیں کہ یہاں پارلیمنٹ میں جو بات بھی کہی جائے گی وہ عدالتوں میں چیلنج نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ہر رکن کا استحقاق ہے کہ وہ ایوان میں جو بات بھی کرے اسے نیشنل پاکستان ٹی وی (پی ٹی وی) پر دکھایا جائے، لہٰذا آپ آج اس حوالے سے باقاعدہ ہدایت جاری کر دیں۔
انہوں نے اجلاس سے نکالے گئے رکن قومی اسمبلی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب نے خیبر کے ایک نمائندے کو تمام دورانیے کے لیے ایوان سے نکال دیا ہے۔ ہم سب یہاں چھ، چھ لاکھ انسانوں کے منتخب نمائندے ہیں اور آپ نے اُس کو نکال دیا ہے۔ میں آپ سے درخواست کروں گا کہ کم از کم آپ اس شریف آدمی (اسپیکر) کو سمجھا دیں کہ وہ یہ پابندی دور کر دیں اور اُس آفریدی (رکن اسمبلی) کو واپس پارلیمنٹ میں بُلائیں تاکہ وہ بھی اپنے علاقے کے عوام کی نمائندگی کر سکیں۔
محمود خان اچکزئی نے اپنا خطاب سمیٹتے ہوئے کہا کہ شہباز بھائی، پارلیمنٹ کی طاقت، پاکستان کی ترقی اور جمہوری فیڈریشن کے استحکام کے لیے ہم آپ کو غیر مشروط سپورٹ کریں گے، اور اس بات پر راجہ صاحب میرے گواہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کی باتیں پھر کبھی کریں گے، میرے اختلافات بہت ہیں، آپ کی تقاریر اور دوسرے لوگوں پر بھی اختلافات موجود ہیں۔ آج اس جمعہ کے بابرکت دن جو اچھا کام ہوا وہ اپنی جگہ، البتہ ادب کی دنیا سے آپ کا پڑھا گیا شعر اس واقعے کے ساتھ فٹ نہیں بیٹھا، آپ کسی اور شعر کو ڈھونڈ لیں تو زیادہ اچھا ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert