محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان کا بڑا ایکشن، بجٹ ڈے پر احتجاج میں شرکت کرنے والے 24 سے زائد ملازمین معطل

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان نے سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے الزام پر درجنوں اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے دفتری ملازمین کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ کارروائی 17 جون 2026 کو بجٹ ڈے کے روز حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شرکت اور مبینہ طور پر سرکاری قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی پر عمل میں لائی گئی ہے۔ سرکاری اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ ملازمین کا احتجاج میں حصہ لینا سرکاری ملازمین کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ ان ملازمین کو واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتار بھی کیا گیا تھا۔نوٹیفکیشن کے مطابق، بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 (BEEDA-2011) کی دفعہ 6 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مجموعی طور پر 24 سے زائد ملازمین کی خدمات فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ معطل کیے جانے والے ملازمین میں مختلف کیڈرز کے اساتذہ اور دفتری عملہ شامل ہے، جن میں پی ای ٹی (PET)، جے ڈی ایم (JDM)، جے وی ٹی (JVT)، جے ای ٹی (JET)، ایس ایس ٹی (SST)، ای ایس ٹی (EST) اور جونیئر کلرک شامل ہیں۔ ان ملازمین کا تعلق صوبے کے مختلف اضلاع بشمول جھل مگسی، کچھی، کوئٹہ، قلات، چمن، ژوب، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، دالبندین، پشین اور بارکھان سے ہے۔اعلامیے کے مطابق، تمام متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DEOs) کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ فوری طور پر معطل شدہ ملازمین کے خلاف الزامات کی تفصیلی جانچ پڑتال کریں، انکوائری کا آغاز کر کے چارج شیٹ تیار کریں اور تمام تر پیش رفت سے سیکرٹری اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو باقاعدگی سے آگاہ رکھیں۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کے لیے ضابطہ اخلاق کی پابندی لازم و ملزوم ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی یا حکومت مخالف مظاہرے کا حصہ بننا قواعد کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ اس سخت اقدام کا مقصد سرکاری اداروں میں نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہے، اور آئندہ بھی قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ملازم کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
