بلوچستان، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہ ہو سکی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کی پبلک ٹرانسپورٹ نے اپنے کرایوں میں کوئی کمی نہیں کی، جس پر شہریوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں تقریبا 80 روپے فی لیٹر تک واضح کمی کیے جانے کے باوجود کوئٹہ سے کراچی، کوئٹہ سے اسلام آباد، کوئٹہ سے لاہور اور کوئٹہ سے ملتان چلنے والی مسافر کوچز اور بس سروسز نے تاحال اپنے پرانے کرائے برقرار رکھے ہوئے ہیں اور مسافروں سے سابقہ بھاری کرایہ ہی وصول کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کوئٹہ سے جیکب آباد، نواب شاہ اور حیدرآباد سمیت دیگر بین الصوبائی روٹس پر بھی کرایوں میں کوئی نظرثانی نہیں کی گئی ہے۔بین الصوبائی روٹس کے ساتھ ساتھ لوکل روٹس پر بھی کرایوں میں کمی نہ ہونے سے غریب عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ کوئٹہ کے اندرونی اور قریبی روٹس جیسے کوئٹہ سے سپیزنڈ، جعفرآباد، مستونگ، قلات، خضدار، زیارت اور پشین پر چلنے والی لوکل ٹرانسپورٹ کے علاوہ ٹوڈی (Two-D) اور دیگر پرائیویٹ گاڑیوں نے بھی اپنے کرایوں میں کوئی رد و بدل نہیں کیا ہے۔ شہریوں نے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹرانسپورٹ مافیا کی اس من مانی کے خلاف کارروائی کریں۔ عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں جب ڈیزل کی قیمتیں اتنی کم ہو چکی ہیں، تو ٹرانسپورٹرز کو چھوٹ دینا ناانصافی ہے؛ حکومت تمام روٹس کے لیے فوری طور پر نیا کرایہ نامہ جاری کرے اور زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔
