کوئٹہ میں انوکھی صورتحال، پاکستانی پیٹرول سستا جبکہ غیر قانونی ایرانی پیٹرول مہنگے داموں فروخت ہونے لگا
سرکاری قیمتوں میں کمی کے بعد ملکی پیٹرول 299 روپے جبکہ ایرانی پیٹرول 330 روپے فی لیٹر برقرار، منافع خور مافیا سرگرم

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ نمایاں کمی کے بعد ایک غیر معمولی اور حیران کن صورتحال سامنے آگئی ہے، جہاں قانونی طور پر دستیاب پاکستانی پیٹرول غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والے ایرانی پیٹرول سے سستا ہو گیا ہے، جبکہ ایرانی پیٹرول فروخت کرنے والے عناصر بدستور من مانے نرخ وصول کرکے شہریوں کو اضافی مالی بوجھ تلے دبانے میں مصروف ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد پاکستانی پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر کی واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف پٹرول پمپس پر پاکستانی پیٹرول تقریبا 299روپے فی لیٹر کے حساب سے دستیاب ہے۔ اس کے برعکس کوئٹہ شہر اور مضافاتی علاقوں میں اوپن مارکیٹ میں فروخت ہونے والا ایرانی پیٹرول تاحال 330 روپے فی لیٹر کے مہنگے اور من مانے نرخوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف حیران کن بلکہ تشویشناک بھی ہے کیونکہ ماضی میں ایرانی پیٹرول نسبتا سستا ہونے کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد اس کا استعمال کرتی تھی، تاہم اب جبکہ پاکستانی پیٹرول قیمت کے اعتبار سے سستا ہو چکا ہے، اس کے باوجود ایرانی پیٹرول فروخت کرنے والے عناصر نے قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے ناجائز منافع خوری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق جب ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے تو ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے کمی ہونی چاہیے تھی، مگر منافع خور مافیا مصنوعی نرخ برقرار رکھ کر غریب اور متوسط طبقے کا استحصال کر رہا ہے۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض عناصر مصنوعی قلت اور من مانے نرخوں کے ذریعے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں، جس کے باعث حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ریلیف عام صارفین تک منتقل نہیں ہو پا رہا۔ عوامی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال کو انتظامی غفلت قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، ضلعی انتظامیہ، محکمہ صنعت و تجارت، پرائس کنٹرول کمیٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں کھلے عام جاری منافع خوری اور غیر قانونی پیٹرول کی مہنگے داموں فروخت کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا حقیقی فائدہ اسی صورت عوام تک پہنچ سکتا ہے جب ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں اور شہریوں کو سستی اور معیاری ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے اس صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا تو منافع خور عناصر مزید بے لگام ہو جائیں گے، جس کا براہ راست بوجھ عام آدمی پر پڑے گا۔ عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس غیر معمولی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے عوامی مفاد میں فوری اور مثر اقدامات کریں گے۔
