مصنوعی قیادت اور غیر عوامی فیصلوں نے بلوچستان کو بدامنی اور تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیا، جمعیت علماء اسلام

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے مشترکہ صوبائی پریس ریلیز میں بلوچستان کی مخدوش امن و امان کی صورتحال، سیاسی بے یقینی، معاشی تباہ حالی اور عوامی محرومیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں عوام خود کو بے یار و مددگار، غیر محفوظ اور سیاسی طور پر تنہا محسوس کررہے ہیں۔ بدقسمتی سے صوبے کے بنیادی سیاسی، معاشی اور قومی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے مسلسل نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں بدامنی، اضطراب، بے روزگاری اور احساسِ محرومی خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں مینڈیٹ کی بدترین پامالی، عوامی رائے کی توہین، اور حقیقی نمائندوں کو ایوانوں سے باہر رکھنے کے باعث اْن حلقوں کے بیانیے کو تقویت ملی جو برسوں سے یہ کہتے آرہے تھے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل جمہوری اداروں اور پارلیمان میں موجود نہیں۔ جب عوام کے اصل نمائندوں کو دیوار سے لگایا جائے، سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے مصنوعی قیادت کو مسلط کیا جائے، اور اقتدار کو چند مخصوص طبقات کے درمیان بندربانٹ کا ذریعہ بنایا جائے تو اس کے نتائج ہمیشہ خطرناک، تباہ کن اور ریاست کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ بلوچستان میں آئین، جمہوریت، پارلیمان اور سیاسی عمل کی بالادستی کیلئے تاریخی کردار ادا کیا۔ ہم نے اْن طبقات کو جو مایوسی، غصے اور بے اعتمادی کا شکار تھے، سیاسی اور جمہوری راستہ دکھانے کیلئے بے مثال قربانیاں دیں۔ ہمارے کارکنوں نے شہادتیں دیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، دھمکیوں اور اذیتوں کا سامنا کیا، مگر افسوس کہ آج اسی جماعت کو اْس کی جمہوری جدوجہد کی سزا دی جارہی ہے۔ اقتدار کے سوداگر مفاہمت اور سیاسی استحکام کے نام پر ذاتی مفادات کی ایسی منڈی سجا چکے ہیں جس نے بلوچستان کو ایک بار پھر نوّے کی دہائی کے خوفناک حالات، بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی انتشار کی طرف دھکیل دیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ آج بلوچستان کا ہر شہر، ہر شاہراہ، ہر بازار اور ہر گھر خوف اور بے یقینی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ لوگ سفر سے خوفزدہ، کاروبار تباہ، زراعت برباد، سرمایہ کاری ختم، اور نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلے جاچکے ہیں۔ بارڈر بندش نے لاکھوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کردیئے، چھوٹے کاروبار ختم ہوگئے، اور ہزاروں نوجوان روزگار سے محروم ہوکر ذہنی اذیت کا شکار ہیں، مگر حکمران طبقہ زمینی حقائق سے لاتعلق محض نمائشی اعلانات اور تشہیری منصوبوں میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں حکومت کی مجموعی کارکردگی عوامی مسائل کے حل کے بجائے متنازع اور غیر عوامی فیصلوں تک محدود رہی۔ مائنز اینڈ منرل بل کے ذریعے صوبے کے وسائل پر نئے تنازعات کو جنم دیا گیا، بارڈر بندش کے باعث معیشت کا پہیہ جام ہوگیا، کم عمری شادی سے متعلق متنازع قانون سازی کے ذریعے مذہبی اور سماجی حساسیت کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے نے صوبے کے روایتی اور قبائلی سیکیورٹی ڈھانچے میں مزید بے چینی پیدا کردی۔ دوسری جانب عوام کو ریلیف دینے کے نام پر محض فائنانسنگ کے ذریعے بلیو اور پنک بائیک جیسے مضحکہ خیز منصوبے پیش کئے گئے، گویا لاکھوں بے روزگار نوجوانوں، تباہ حال معیشت، بدامنی اور غربت کا حل چند نمائشی اسکیمیں ہوں۔ یہ اقدامات عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اْن کے دکھوں کا مذاق اْڑانے کے مترادف ہیں۔جمعیت علماء اسلام نے اپنی طویل سیاسی جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کے حقوق کا مقدمہ قومی سطح پر منوایا۔ این ایف سی اور مالیاتی تقسیم کے مؤثر فارمولے میں بلوچستان کی پسماندگی، غربت، کم آبادی، جغرافیائی وسعت اور ریونیو کلیکشن جیسے اہم عوامل کو تسلیم کروایا، مگر افسوس کہ آج انہی حقوق کو سیاسی مفادات، وقتی سمجھوتوں اور اقتدار کی سودے بازی کی نذر کیا جارہا ہے۔ کبھی مری معاہدہ، کبھی سرینا ہوٹل منصوبہ، اور کبھی اسلام آباد کے سیاسی معاہدوں میں بلوچستان کو اقتدار کی میز پر بطور سیاسی تحفہ پیش کیا جاتا رہا، جس کے نتیجے میں عوام کے اندر بے یقینی، مایوسی اور محرومی کے احساس میں خطرناک اضافہ ہوا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز، سیاسی قوتوں اور عوامی نمائندوں کو مسلسل نظر انداز کرکے، مصنوعی قیادت کو مسلط کرکے، اور زمینی حقائق سے آنکھیں چرا کر کبھی پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے؟ اگر یہ پالیسی کامیاب تھی تو آج بلوچستان بدامنی، بے چینی، بے روزگاری اور سیاسی انتشار کی دلدل میں کیوں پھنسا ہوا ہے؟جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی قیادت نے واضح کیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل نمائشی اقدامات، وقتی بندوبست، سیاسی انجینئرنگ اور عوامی مینڈیٹ کی توہین میں نہیں بلکہ مسئلے کی حقیقی تشخیص، عوامی اعتماد کی بحالی، حقیقی نمائندوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے، سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات، اور انصاف پر مبنی سیاسی و معاشی پالیسیوں میں مضمر ہے۔ اگر اب بھی بلوچستان کے عوامی جذبات، سیاسی حقائق اور زمینی حالات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کیلئے مزید سنگین اور ناقابلِ تلافی ثابت ہوسکتے ہیں۔
