عمران خان کا اخبار، ٹی وی اور ملاقاتیں اس لئے بند ہیں کیونکہ ہمارا پریشر کم ہوگیا ہے

پشاور (قدرت روزنامہ) سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف کی رہائی کے لیے کوششیں ماند پڑگئی ہیں، سہیل آفریدی کیخلاف نہیں لیکن عمران خان کی رہائی کیلئے اقدامات تسلی بخش نہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان کا اخبار، ٹی اور ملاقاتیں اس لیے بند ہیں کیونکہ ہمارا پریشر کم ہو گیا ہے۔
ہمیں اسٹریٹ موومنٹ کے ذریعے پریشر بنانا ہو گا، ہمارے ناراض اراکین کے بھی یہی تحفظات ہیں کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اقدامات تسلی بخش نہیں، وہ سہیل آفریدی کے خلاف نہیں۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی تحریک انصاف کے خلاف کیسز جعلی ہیں اور بانی کے اہل خانہ اور وکلا کی ملاقات بھی نہیں کرائی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ ناراض ارکان وزیرِاعلی اور بجٹ کے خلاف نہیں ہیں۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ میں بانی سے ملاقات کے لیے نہیں جاتا تھا، ان سے میری ملاقاتیں ہوتی تھیں لیکن کم ہوتی تھیں۔ تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے لیکن ہم میز پر بیٹھنے کے بہت قریب ہیں، کسی کو مائنس نہیں کیا جا سکتا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں صورتحال، اور انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کے حالیہ فیصلوں پر پارٹی کا تفصیلی مؤقف پیش کر دیا۔
بیرسٹر گوہر نے سیاسی جمود پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں، لیکن اس وقت کسی بھی فرنٹ پر حکومت کے ساتھ ہماری کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، آپ ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت کو سائیڈ لائن یا کسی کو بھی مائنس کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے مقتدر حلقوں اور انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ عمران خان سے ان کی فیملی کی ملاقات ہونے دیں، اور میری بھی بطور چیئرمین ملاقات ہونے دی جائے، ملاقاتیں ہوں گی تو ہی حالات میں بہتری آئے گی۔
