حرمین شریفین میں حیرت انگیز پیش رفت، زائرین کے لیے بڑی سہولت آگئی


ریاض (قدرت روزنامہ) مسجد الحرام میں جاری ڈیجیٹل اقدامات کے نتیجے میں مقدس مقام پر زائرین کو فراہم کی جانے والی مختلف خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور انتظامی امور کو مزید تیز بنانے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حرمین شریفین کے انتظامی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے روزمرہ خدمات کی کارکردگی بہتر بنائی جارہی ہے، جبکہ اس منصوبے کا مقصد 2030 تک مسجد الحرام کو دنیا کے بہترین مقامات میں شامل کرنا ہے۔
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کے امور کی جنرل اتھارٹی کے نائب سربراہ برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ڈاکٹر محمد الصقر کے مطابق اسمارٹ موبلٹی پلیٹ فارم نے نقل و حرکت سے متعلق خدمات، الیکٹرانک بکنگ اور ادائیگی کے مربوط نظام کو خودکار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ حج کے دوران جدید نظام کے باعث حجاج اور زائرین کے انتظار کا دورانیہ کم ہو کر صرف 9 منٹ رہ گیا، جبکہ تقریباً تین سال قبل یہی انتظار تقریباً 2 گھنٹے تک ہوتا تھا۔ اس تبدیلی کو حرمین شریفین میں ڈیجیٹل نظام کی مؤثریت کی اہم مثال قرار دیا جارہا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے مسجد الحرام میں افطار کے انتظامات بھی جدید طریقے سے انجام دیے جارہے ہیں۔ اس نظام کے تحت تقریباً 500 ملین ریال کے لین دین کے ساتھ 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد کھانے تقسیم کیے جاتے ہیں۔
قومی احسان چیریٹی پلیٹ فارم کے ساتھ انضمام اور تیسرے فریق کی نگرانی کے ذریعے انتظامی خدمات کو بھی خودکار بنایا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں انتظامی منظوری حاصل کرنے کا وقت 8 دن سے کم ہو کر صرف 8 منٹ رہ گیا ہے۔
حرمین شریفین میں اسمارٹ ٹیکنالوجی کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جارہی ہے۔ ’رافد‘ پلیٹ فارم 18 حکومتی اداروں کو باہم مربوط کرتا ہے، جبکہ انٹرایکٹو ڈیجیٹل میپنگ سسٹم سالانہ تقریباً 6 لاکھ کیسز سے متعلق خدمات فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ نظام سالانہ تقریباً 60 لاکھ زائرین میں سے لگ بھگ 10 فیصد افراد کو خدمات فراہم کرنے میں معاون ہے۔ جدید ڈیجیٹل اقدامات کے ذریعے حرمین شریفین میں زائرین کے تجربے کو مزید بہتر بنانے اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

WhatsApp
Get Alert