عشقِ قرآن کی روشن مثال،افغان خاتون کا جذبہ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا


ہرات(قدرت روزنامہ)افغانستان کے تاریخی شہر ہرات میں ایک خاتون خطاط نے پشتو ترجمے کے ساتھ ہاتھ سے قرآن مجید لکھنے کا منفرد اور عظیم کام شروع کر رکھا ہے، جو نہ صرف ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے بلکہ افغان خواتین کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
25 سالہ نگیتا درانی کا کہنا ہے کہ وہ ایک خطاط ہیں اور اس وقت پشتو ترجمے کے ساتھ قرآن مجید ہاتھ سے تحریر کر رہی ہیں، اس سے قبل قرآن کے مختلف حصے بڑے سائز کے صفحات پر تحریر کر چکی ہوں۔
ان کے مطابق ماضی میں قرآن مجید اجتماعی طور پر لکھا جاتا تھا، تاہم اب وہ یہ کام تنہا انجام دے رہی ہیں اور یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے۔
نگیتا درانی نے بتایا کہ انہوں نے 10 سال قبل، صرف 15 برس کی عمر میں، ہرات کے معروف خطاط میر ولی احمد سے قرآن نویسی اور عربی خطاطی کا فن سیکھا تھا، ہرات میں خطاطی کی روایت ایک ہزار سال سے زائد قدیم ہے اور یہی تاریخی ورثہ انہیں اس فن کی جانب لے آیا۔
نگیتا درانی کا کہنا ہے کہ ان کی تیار کردہ مصنوعات امریکا، یورپ اور دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں، ان کے بقول، ’’یہ صرف کاروبار نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ یہ فن پارے افغان خواتین کے ہاتھوں سے تخلیق کیے گئے ہیں۔۔

WhatsApp
Get Alert