قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کا تہلکہ خیز خطاب؛ اسپیکر پر آئین پامال کرنے اور 14 ارکان کو نکالنے کا سنگین الزام
پاکستان تمام قومیتوں کا جیل خانہ لگ رہا ہے، کشمیریوں کے پاس آٹا نہیں اور خیبرپختونخوا کو پاکستان نہیں سمجھا جا رہا، شہباز شریف بلوچوں، سندھیوں اور پختونوں کو ان کے وسائل پر حق دیں، محمود اچکزئی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور اسپیکر ایاز صادق کے درمیان شدید لفظی گولہ باری ہوئی جس کے بعد اپوزیشن اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اپنے خطاب (جسے مبینہ طور پر سینسر کیا گیا) میں محمود خان اچکزئی نے حکومت کو متنبہ کیا کہ ان کے ڈھائی سال مکمل ہونے والے ہیں، لہٰذا اب انہیں اپنا لہجہ بدلنا ہوگا۔
انہوں نے اسپیکر ایاز صادق کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ان پر آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے، 14 ساتھی ارکان کو اسمبلی سے غیر قانونی طور پر نکالنے اور عدلیہ کے پر کاٹنے کے لیے غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ دینے کا سنگین الزام عائد کیا۔ اپوزیشن لیڈر نے عمران خان کی قید پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے احتجاج کیا کہ ملک میں جلسے جلوس کی پابندی ہے اور پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی نے آخر کیا جرم کیا ہے؟
انہوں نے کوٹ لکھپت جیل میں 70 سالہ بزرگوں کی قید، ایک شخص کو 286 سال کی سزا اور ماہرنگ بلوچ کو عمر قید سنائے جانے پر حکومت کو طنزیہ انداز میں “گولڈ میڈل” کی مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان اب پشتون، بلوچ اور کشمیریوں کے لیے ایک جیل خانہ بن چکا ہے۔
محمود اچکزئی نے خطے کی بربادی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کو پاکستان نہیں سمجھا جا رہا، جبکہ آزاد کشمیر کے عوام ادویات اور آٹے کی قلت کا رونا رو رہے ہیں، لہٰذا وزیراعظم فوری طور پر بلوچوں، سندھیوں اور پختونوں کو ان کے وسائل پر ان کے بچوں کا حق تسلیم کریں۔
ان الزامات اور طنز کے جواب میں اسپیکر ایاز صادق شدید غصے میں آ گئے اور دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ وہ ایوان میں کسی کو بھی پاک فوج یا عدلیہ کے خلاف بات کرنے اور افغانستان کو ترجیح دینے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
اسپیکر نے گرجتے ہوئے کہا کہ وہ اس ایوان میں سڑکوں جیسی تقاریر نہیں ہونے دیں گے، اور اگر ملک و اداروں کے دفاع میں اٹھائے گئے ان اقدامات کو آئین توڑنا سمجھا جاتا ہے تو وہ ایسا بار بار کرتے رہیں گے۔ اس گرما گرمی اور سخت جواب کے بعد محمود خان اچکزئی اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر دیگر اپوزیشن اراکین کے ہمراہ ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
