بلوچستان میں حکومتی رٹ عملاً ختم، ،حکومت کی عملداری اب محض چند سرکاری دفاتر اور محدود علاقوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے ، کرپشن کی کھلی منڈی لگی ہوئی ہے،مولاناعبدالواسع


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلسِ عاملہ اور پارلیمانی گروپ کا اہم اجلاس صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی زیرِ صدارت صوبائی سیکرٹریٹ، جناح ٹاؤن، کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیاسی، امن و امان، تنظیمی اور عوامی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں 4 جون پشین میں منعقدہ عظیم الشان تحفظِ مدارس و حقوقِ بلوچستان کانفرنس کی تاریخی کامیابی پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ کانفرنس بلوچستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے، جس کے دور رس اور مثبت سیاسی اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
اجلاس نے کانفرنس کی کامیابی کو کارکنان، علماء ، عوام اور جمعیت علماء اسلام کے مضبوط عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔اجلاس کے شرکاء نے کانفرنس کی کامیابی میں بھرپور کردار ادا کرنے پر تمام اضلاع کے امراء ، نظماء ، ضلعی و تحصیل ذمہ داران، کارکنان، رضاکاروں اور معاونین کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی انتھک محنت، بہترین تنظیمی صلاحیت اور مثالی کارکردگی کو سراہا۔اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبے کے سیٹلڈ اور اَن سیٹلڈ دونوں علاقوں میں حکومتی رٹ عملاً ختم ہو چکی ہے۔
عوام جان و مال کے تحفظ سے محروم ہیں، جبکہ حکومت اپنی رٹ قائم رکھنے میں مکمل ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اجلاس نے کہا کہ حکومت کی عملداری اب محض چند سرکاری دفاتر اور محدود علاقوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے، جو اس کی ناکامی اور بے بسی کا واضح ثبوت ہے۔اجلاس میں ضلع شاہرگ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں جمعیت علماء اسلام کے رہنما مفتی زاہد کی المناک شہادت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ واقعہ کے باوجود قاتلوں کی تاحال عدم گرفتاری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر سنجیدگی اور نااہلی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔
اجلاس نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور شہداء کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔اجلاس میں صوبے میں بڑھتی ہوئی کرپشن، کمیشن خوری اور بدعنوانی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ سرکاری اداروں میں کرپشن کی کھلی منڈی لگی ہوئی ہے۔
ترقیاتی منصوبے ناقص منصوبہ بندی، کمیشن مافیا اور اقربا پروری کی نذر ہو رہے ہیں، جبکہ حکومت کی مجرمانہ خاموشی صوبے کے وسائل اور عوامی مفادات کے ساتھ سنگین ناانصافی کے مترادف ہے۔اجلاس میں تنظیمی امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، مختلف تنظیمی پہلوؤں پر غور کیا گیا اور جماعت کو مزید فعال، منظم اور عوامی سطح پر مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں کیے گئے اہم تنظیمی اور سیاسی فیصلوں سے متعلق باقاعدہ سرکلر تمام ضلعی تنظیموں اور متعلقہ ذمہ داران کو جلد جاری کیا جائے گا تاکہ ان پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر ملک و ملت، بلوچستان کے امن، استحکام، شہداء کے درجات کی بلندی اور عوام کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ، صوبائی سرپرستِ اعلیٰ مولانا حافظ محمد یوسف، مولانا نذر محمد حقانی ، نائب امیر مولانا سرور ندیم، صوبائی نائب امیر مولانا کمال الدین، صوبائی ترجمان حاجی دلاور خان کاکڑ، حاجی غوث اللہ اچکزئی، ایم پی اے ڈاکٹر نواز خان کاکڑ، ایم پی اے سید ظفر آغا، حاجی عین اللہ شمس، حاجی منظور احمد دیگر ذمہ داران شامل تھے۔

WhatsApp
Get Alert