کراچی میں پہلی انڈر گراؤنڈ میٹرو ٹرین چلانے کی تیاری، دو بڑے زیرزمین ریلوے کوریڈورز تجویز


کراچی (قدرت روزنامہ) پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کراچی میں ٹریفک کے سنگین مسائل، بڑھتی ہوئی آبادی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید قلت سے نمٹنے کے لیے پہلی بار انڈر گراؤنڈ میٹرو سسٹم لانے کی باقاعدہ تجویز سامنے آ گئی ہے، ملک کے اعلیٰ ترین انجینئرنگ ادارے “پاکستان اکیڈمی آف انجینئرنگ” نے شہر کی پہلی زیرِ زمین ریلوے نیٹ ورک کی منصوبہ بندی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے ٹریفک بحران کا طویل مدتی حل صرف انڈر گراؤنڈ ماس ٹرانزٹ ہی ہے۔
گلف نیوز کے مطابق اکیڈمی کے 40 ویں سیمینار بعنوان “اہم میگا سٹیز میں زیرِ زمین نقل و حرکت کی اہمیت” میں پاکستان، چین اور امریکہ کے ٹرانسپورٹ و انجینئرنگ ماہرین نے شرکت کی اور کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو جدید بنانے کے لیے دو انڈر گراؤنڈ ریلوے کوریڈورز بنانے پر زور دیا، پاکستان اکیڈمی آف انجینئرنگ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) نسیم اختر خان نے شہر کے لیے دو زیرِ زمین روٹس تجویز کیے ہیں، جن میں جس میں نمائش چورنگی سے میری ویدھر ٹاور تک کوریڈور 1 اور شاہراہِ فیصل پر ایف ٹی سی کو آئی آئی چندریگر روڈ اور ٹاور سے ملانے والا کوریڈور 2 شامل ہے۔
پروفیسر نسیم اختر خان کا کہنا تھا کہ کراچی کو ماس ٹرانزٹ کے لیے اب زیرِ زمین جانا ہی پڑے گا، تو کیوں نہ ہم اس کی شروعات آج ہی سے کریں؟ یہ منصوبہ مقامی انجینئرنگ کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ پاکستان میں اب تک مقامی سطح پر اتنے بڑے انفراسٹرکچر ڈیزائن نہیں کیے گئے، سیمینار میں انہوں نے سنگاپور، نیویارک، واشنگٹن، دہلی اور ڈھاکہ کے کامیاب انڈر گراؤنڈ میٹرو سسٹمز کی مثالیں بھی دیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ یہ زیرِ زمین ریلوے نظام کراچی کے موجودہ بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم یعنی گرین اور اورنج لائن کو ختم نہیں کرے گا، بلکہ یہ بی آر ٹی بسوں کے مددگار کے طور پر کام کرے گا، دونوں سسٹمز کے ملاپ سے مسافروں کو لانے لے جانے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور شہر کے تجارتی مراکز و رہائشی علاقوں کے درمیان رابطہ انتہائی تیز اور آسان ہو جائے گا، اس سے سفری وقت، فضائی آلودگی اور ٹریفک جام میں نمایاں کمی آئے گی۔
بتایا گیا ہے کہ تقریباً 2 کروڑ 18 لاکھ آبادی کا یہ میگا سٹی ملک کے بدترین ٹرانسپورٹ بحران سے گزر رہا ہے، شہر میں 42 فیصد مسافر بسوں پر سفر کرتے ہیں، لیکن بسیں شہر کی کل گاڑیوں کا صرف 5 فیصد ہیں، کراچی کو فوری طور پر کم از کم 10 ہزار اضافی بسوں کی ضرورت ہے، اس وقت گرین اور اورنج لائن کوریڈورز پر صرف 100 بسیں چل رہی ہیں، پیپلز بس سروس کے تحت 339 بسیں سڑکوں پر موجود ہیں، جو کہ آبادی کے لحاظ سے آٹے میں نمک کے برابر ہیں، جبکہ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے ‘کراچی ٹرانسپورٹ ماسٹر پلان 2030’ کے تحت 6 بی آر ٹی کوریڈورز اور 10 ہزار بسیں چلائی جانی تھیں، مگر یہ پلان ادھورا رہ گیا۔
معلوم ہوا ہے کہ اس انڈرگراؤنڈ منصوبے کو اکیڈمیہ کی طرف سے بھی بھرپور پذیرائی ملی ہے، سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر ڈاکٹر افضل حق اور ڈی ایچ اے صوفہ یونیورسٹی کے ڈیین ڈاکٹر احمد حسین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے انجینئرنگ کے طلبہ کو اس انڈر گراؤنڈ میٹرو سے متعلق ریسرچ پروجیکٹس سونپیں گے، جن میں زیرِ زمین اسٹیشنز کا ڈیزائن، سرنگوں کی سیدھ اور دیگر معاون انفراسٹرکچر شامل ہوں گے۔

WhatsApp
Get Alert